خطبات وقف جدید — Page 155
155 صلى الله صلى الله حضرت خلیفہ امسح الثالث ہی نہیں ملتی ، دگنی ہی نہیں ملتی ، دس گنے یا سو گنے ہی زیادہ نہیں ملتی جیسا کہ میں نے ابھی اعداد و شمار سے بتایا ہے بلکہ دس ہزار گنے سے زیادہ ملتی ہے۔ایسے خاندان بھی ہیں جماعت کے کہ ان کے والد نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جتنی قربانی دی ان کے بچوں میں سے ایک ایک کی ماہوار آمدنی ان کی ساری زندگی کی مالی قربانی سے زیادہ تھی تو اللہ تعالیٰ بڑے فضلوں کا مالک ہے اور بڑے فضل کر رہا ہے اور کرنا چاہتا ہے اور اس لحاظ سے اگر ہم اندازہ لگائیں کہ اگلے پچھتر سال میں ہمارے مالوں میں کس قدر برکت پیدا ہو جائے گی ( مجموعی طور پر جماعت کے مالوں میں ) تو بے شمار رقم بن جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو دنیا میں ہی ایک فوقیت عطا کرے گا اور یہ ڈیڑھ سوسال کا عرصہ کوئی لمبا عرصہ نہیں ہے ایک آواز جوا کیلی اور تنہا آواز اور ایک غریب انسان کی آواز ایک ایسے انسان کی آواز تھی جو دنیوی لحاظ سے کوئی وجاہت یا اقتدار نہیں رکھتا تھا لیکن اپنے رب سے انتہائی پیار کرنے والا اورمحمد رسول اللہ لے کے عشق میں اس طرح وہ محو تھا کہ امت مسلمہ میں ویسی محبت اور عشق کسی امتی نے اپنے امام ، اپنے محمد علی سے کبھی نہیں کی اس کو اللہ تعالیٰ نے کھڑا کیا اور کہا کہ میں دنیا میں تیرے ذریعہ سے اسلام کو پھر غالب کرنا چاہتا ہوں اور ایک ایسی جماعت تمہیں دوں گا يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ( تذکرہ: صفحہ 39) کہ آسمان سے فرشتے نازل ہونگے اور انھیں وحی کریں گے کہ وہ اٹھیں اور تیری خدمت میں لگ جائیں پھر یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی 1892ء میں مگر وہ بڑھتی چلی گئی اپنی تعداد میں جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے ایک ہزار گنا زیادہ نہیں تین ہزار گنا زیادہ وہ ہوگئی۔اور کہا گیا تھا کہ ان کے اموال میں برکت دی جائے گی چونکہ انھوں نے خدا کی راہ میں ایسے وقت میں قربانیاں دیں جب مسلمان کہلانے والے اسلام کی خاطر مالی قربانیاں دینے میں بڑی ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے اور عملاً کوئی قربانی نہیں دے رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ ان کی حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں جو ایک روپیہ انھوں نے دیا اس کے بدلہ میں ان کو اور ان کے خاندانوں کو دس ہزار روپیہ سے بھی زائد خدا نے دیا۔اللہ تعالیٰ نے دس ہزار گنا سے بھی زیادہ ان کے اموال کر دئیے۔پس جو کچھ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہیں یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ اموال ضائع ہو گئے۔ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اتنا ہی ہمیں مل جاتا ہے، پھر تمہیں ڈرکس بات کا ہے جتنا تم نے دیا تھاوہ تمہیں واپس مل گیا بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل بڑی وضاحت سے یہ شہادت دے رہا ہے کہ تم ایک روپیہ میری راہ میں خرچ کرومیں دس ہزار روپیہ تمہیں لوٹا دوں گا۔اس دنیا میں اور جو بدلہ اس کی محبت کا اور اس کی رضا کا اور اس کی جنت کا اُخروی زندگی میں ملنا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔پس بڑا سستا سودا ہے اور اس پس منظر میں میں آج آپ