خطبات وقف جدید — Page 137
137 حضرت خلیفة المسیح الثالث مقامات رفعت اور مقامات قرب ، اخوت کا باعث بنیں گے باہمی جھگڑے اور فساد کا باعث نہیں بنیں گے ان مقامات رفعت اور ان مقامات قرب میں مزید رفعتوں کے حصول کے لئے ان کی جو بھی جد و جہد ہوگی وہ ایک عظیم جدو جہد ہوگی انھیں تھکائے گی نہیں بلکہ مزید روحانی سرور کے حصول کا ذریعہ ان کے لئے بنے گی۔اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ میرے بندوں کو کھول کر یہ بات بتا دو کہ میری صفات میں سے دوصفات یہ بھی ہیں کہ میں غفور بھی ہوں اور میں رحیم بھی ہوں اگر وہ میری طرف رجوع کریں گے ، اگر وہ میری طرف آئیں گے ، اگر وہ میری طرف جھکیں گے، اگر وہ تو بہ کی راہوں کو اختیار کرینگے ، اگر وہ استغفار کو اپنا شعار بنائیں گے، اگر وہ مجھ سے معاملہ چاہیں گے تو اپنی تمام کو تاہیوں کے نتیجہ میں اور غفلتوں کے نتیجہ میں اور گناہوں کے نتیجہ میں وہ جس سزا کے مستحق اور سزاوار بنے تھے میں اس سزا سے انھیں محفوظ کر لوں گا اور بچالوں گا اور انھیں اپنی حفاظت میں لے لوں گا کیونکہ میں خدائے غفور ہوں نیز میری رضا کے حصول کے لئے اگر وہ جد و جہد کریں گے میرے بتائے ہوئے راستوں پر اگر وہ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ چلیں گے اگر ان کے دلوں میں اور ان کی روحوں میں مجھ سے ملنے اور میرا قرب حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی اور اگر اس کے لئے وہ اعمالِ صالحہ بجالائیں گے، اس کے لئے وہ قربانیاں دیں گے، اس کے لئے وہ اخلاص کا نمونہ میرے اور دنیا کے سامنے پیش کریں گے تو انھیں تم یہ بھی بتا دو کہ میں خدائے رحیم ہوں ، ہمیں بار بار رحم کرنے والا خدا ہوں اور نیک اعمال کی بہتر اور احسن جزا دینے والا خدا ہوں۔لیکن اس کے ساتھ میرے بندوں کو تم یہ بھی بتا دو۔اَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ اگر کوئی عذاب عذاب کہلانے کا مستحق ہے، اگر کوئی عذاب اس بات کا مستحق ہے کہ کہا جائے کہ یہ بڑا دکھ دینے والا ، بڑا تکلیف دینے والا ، زندگی سے بیزار کر دینے والا ، موت کی خواہش دلوں میں پیدا کر دینے والا یہ عذاب ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے قہر کا ہی عذاب ہے۔یہ ایسا عذاب ہے کہ جن پر وارد ہوتا ہے وہ نہ زندوں میں شمار کئے جاسکتے ہیں کیونکہ حقیقی زندگی کی کوئی رمق ان کے اندر باقی نہیں چھوڑتا اور نہ وہ مردوں کے اندر شمار کئے جاسکتے ہیں کیونکہ اس عذاب کے چکھنے کے لئے خدا کی طرف سے انھیں زندہ رکھا جاتا ہے۔ورنہ ان کے دل تو یہی چاہتے ہیں کہ اس عذاب سے نجات اور چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ان پر موت وارد ہو جائے مگر خدا کہتا ہے کہ نہیں مرد نہیں بلکہ میرے عذاب کو چکھو۔تو فرمایا کہ میرے بندوں کو یہ بھی بتا دو اور کھول کر بتا دو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت عذاب ، بڑا دکھ دینے والا عذاب ہے۔اللہ تعالیٰ نے رمضان کے اس مہینہ میں اپنی مغفرت اور اپنی رحمت کے دروازے کھولے ہیں