خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 133 of 682

خطبات وقف جدید — Page 133

133 حضرت خلیفة المسیح الثالث بٹ گئی تھی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض جماعتوں میں تو ہر تنظیم نے سمجھا کہ شاید دوسرا کام کر رہا ہو اور بعض جگہ ایک دوسرے کے کام میں دخل دینا شروع کر دیا۔یعنی خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ والے جو تھے انھوں نے کم عمر والے بچوں کی فہرستیں بنانا شروع کر دیں جماعتی نظام والے جو تھے انھوں نے سات سال سے کم عمر والے بچوں کی ہی فہرستیں نہیں بنا ئیں بلکہ اطفال کی فہرستیں بھی بنانے لگ گئے۔اس طرح انھوں نے ایک دوسرے کے کام میں دخل دینا شروع کر دیا۔بہر حال جو سستی ہو چکی ہے اسے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے لیکن آئندہ کے لئے میں چاہتا ہوں کہ اس خطبہ کے شائع ہونے کے بعد پندرہ دن کے اندراندر ہر جماعت مجھے بچوں کی ان تین مختلف قسم کے لحاظ سے یعنی اطفال الاحمدیہ سے تعلق رکھنے والے بچے ، ناصرات الاحمدیہ سے تعلق رکھنے والی بچیاں اور سات سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کی فہرست علیحدہ علیحدہ ( نام کے لحاظ سے نہیں بلکہ صرف تعداد کے لحاظ سے مجھے پہنچ جانی چاہئے۔مثلاً لا ہور لکھے کہ ہمارے ہاں اطفال ڈیڑھ ہزار ہیں ، ناصرات ڈیڑھ ہزار ہیں اور کم عمر کے بچے تین ہزار ہیں۔جو صورت بھی ہو مجھے صرف تعداد چاہئے اور دوسرے یہ لکھا جائے کہ ان میں سے وقف جدید کا اس رنگ میں کس کس نے وعدہ کیا ہے۔وعدوں کے متعلق اعلان کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ ہمارے ہزاروں بچے ایسے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ایسے خاندانوں میں پیدا کیا ہے کہ جنھیں اتن رزق دیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک بچہ ایک ٹھنی ماہوار یا اس سے بھی زائد دے کر وقف جدید کا مستقل مجاہد بن سکتا ہے۔لیکن بعض ایسے مخلص اور قربانی کا جذبہ رکھنے والے احمدی خاندان بھی ہیں جو مالی استطاعت نہیں رکھتے مثلاً اگر ان میں سے کسی خاندان کے چھ بچے ہوں تو اٹھنی ماہوار کے حساب سے تین روپے ماہوار یا چھتیں روپے سالانہ انھیں ادا کرنے چاہئیں۔حالانکہ غربت کی وجہ سے اس خاندان کے بڑوں کے چندے بھی کم و بیش اتنے ہی ہوتے ہیں۔پس اگر ایسے خاندان کا ہر ایک بچہ ٹھتی ماہوا را دانہ کر سکے تو سارے خاندان کے بچے مل کر ایک یونٹ بنالیں اور ملکر اٹھتی ماہوار دے دیا کریں۔بہر حال اس صورت میں وقف جدید کے چندے کا جو وعدہ کیا گیا ہو الگ الگ ہر بچہ نے جو وعدہ کیا ہو اس کی اطلاع پندرہ دن کے اندر آجانی چاہئے۔واللہ اعلم بچوں کی صحیح تعداد کتنی ہے؟ رپورٹیں آئیں گی تو پتہ چلے گا لیکن یہ مجھے یقین ہے کہ ہمارے وہ بچے جن کی عمر پندرہ سال سے کم ہے ان کی تعداد کم از کم پچاس ہزار ہوگی۔اگر پچاس ہزار بچے الگ الگ پوری شرح سے چندہ ادا کریں تو ان کا چندہ چھ روپے سالانہ کے حساب سے تین لاکھ روپے بن جاتا ہے جو وقف جدید کے سالِ رواں کے وعدوں سے ڈیڑھ گنا ہے۔(لیکن بعض دوستوں نے تو اپنے