خطبات وقف جدید — Page 124
124 حضرت خلیقه لمسیح الثالث فضلوں کی زیادہ سے زیادہ وارث ہوتی چلی جاؤ تا تمہارا انجام بخیر ہو، تاہم جب اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے کے پاس پہنچیں (جہاں ساری دنیا مل کر بھی ہمیں کوئی مدد یا فائدہ نہیں پہنچا سکتی ) تو وہ اپنی رضا کی جنتوں میں ہمیں رکھے وہ ہم سے ناراض ہو کر ہمیں اپنے قہر اور اپنی لعنت کی جہنم میں نہ پھینک دے۔خدا کرے کہ اس کی رضا ہمارے استقبال کو آئے اور جہنم کے فرشتے ہماری راہ نہ دیکھ رہے ہوں مگر یہ مقام آپ اس وقت حاصل کر سکتیں ہیں جب آپ اس قسم کی بد رسوم اور بد عادتوں کو کلیہ اور پورے طور پر اور انتہائی نفرت کے ساتھ چھوڑ دیں۔ان رسوم اور بد عادات سے جماعت کو نفرت کرنی چاہئے۔جولوگ ان بد رسوم اور بد عادات میں مبتلا ہیں ان پر رحم کرنا چاہئے اور ان میں تبلیغ کرنی چاہئے کہ خدا کے لئے وہ رسوم چھوڑ دو جو خدا نے نہیں بنائیں اور ان باتوں اور ان راہوں کو اختیار کرو جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر کی ہیں اور اس سلسلہ میں ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ ہم قرآن کریم کی ساری کی ساری تعلیم اور ہدایت کی طرف ان لوگوں کو متوجہ کریں جو قرآن کریم کی طرف منسوب تو ہوتے ہیں لیکن قرآن کریم ان کے گھروں کی حقیقی زینت نہیں، قرآن کریم ان کے ذہنوں کی جلا نہیں ، قرآن کریم ان کی پیشانی کا نور نہیں ، قرآن کریم ان کی زبان اور ان کے کانوں اور ان کے دوسرے حواس کا نور نہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کو بتائیں کہ دنیا کی کوئی زینت قرآن کی بخشی ہوئی زینت سے بڑھ کر نہیں ، دنیا کی کوئی روشنی قرآن کریم کے نور سے زیادہ منور نہیں ، دنیا کی کوئی عزت ان عزتوں سے بڑھ کر نہیں جو قرآن ہمیں دیتا ہے، بزرگی کا کوئی سامان ، اس بزرگی کے سامان سے بڑھ کر نہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔پس ان دنیوی عزتوں کو چھوڑو، ان تمام بُرائیوں سے قطع تعلق کرو اور قرآن کریم کی طرف آؤ۔پس اپنے شہروں میں واپس جا کر قرآن کریم کی تبلیغ شروع کر دو۔ہماری یہی تبلیغ ہے ہمیں دوسرے لوگ فروعی اختلافی مسائل میں الجھا لیتے ہیں لیکن ہم میں اور ہمارے غیروں میں جو احمدی نہیں چاہے وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ہوں بنیادی اصلی اور حقیقی امتیاز اور فرق یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر نے قرآن کریم کا جُوا اپنی گردنوں پر رکھا ہے اور اس کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس کوشش میں اپنی حسب استعداد اور اس قوت کے مطابق جو اللہ تعالیٰ ہمیں عطا کرتا ہے لگے رہتے ہیں لیکن ان میں سے بہت قرآن کریم کا نام تو لیتے ہیں لیکن قرآن کریم پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔قرآن کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔موٹی مثال ہے قرآن کریم کا نزول اس لئے ہوا تھا کہ دنیا میں خالص تو حید کو قائم کیا جائے۔نبی اکرم ﷺ کو خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اس کا اتنا خیال تھا کہ آپ ہر وقت اپنی امت کو یاد دلاتے رہتے تھے کہ اس میں شک نہیں کہ