خطبات وقف جدید — Page 115
115 حضرت خلیفقه لمسیح الثالث طرف پوری توجہ نہیں کی۔آپ گھر کی مالکہ ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بھی کہ گھر کے نظام کی ذمہ داری خدا تعالی نے آپ پر ڈالی ہے اور دنیا کی نگاہ بھی آپ کو گھر کی مالکہ بجھتی ہے۔پھر آپ اپنے گھر کی فضا کو اس طرح کیوں نہیں بنا تیں کہ اس وقت سلسلہ حقہ کو جس قدر واقفین کی ضرورت ہے وہ وقف جدید کے لئے مل جائیں۔اگر واپس جا کر آپ اس کا چرچہ کریں اپنے گھر میں بھی اپنے ہمسائے کے گھر میں بھی ، اپنی جماعت کے گھروں میں بھی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں جلد سے جلد زیادہ سے زیادہ تعداد میں واقفین وقف جدید نہ مل جائیں۔دوسری ضرورت پیسہ کی ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ میری دلی خواہش یہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے دل میں بھی یہ تڑپ پیدا ہوگی کہ دنیا کس شان سے یہ نظارہ دیکھے گی اور کس رشک کے ساتھ یہ نظارہ دیکھے گی کہ احمدی مستورات نے عیسائیت کے گڑھ میں وہاں جہاں توحید کے خلاف اس قسم کے نظریے پائے جاتے ہیں کہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ اس کے نتیجہ میں آسمان اپنی جگہ کو چھوڑ دے اور زمین پر آپڑے اور اس طرح زمین و آسمان تباہ ہو جائیں۔کیونکہ ان قوموں کے نظریات اس غرض کے بالکل مخالف اور اس کی ضد ہیں جو ان کی پیدائش کی تھی ان کا ایک حصہ تو خدا تعالیٰ کا منکر ہو چکا ہے اور دہریت ان کا مذہب ہے اور ایک حصہ وہ ہے جو ابھی دہر یہ تو نہیں ہوا لیکن انھوں نے ایک ماں جائے کو اپنا خدا بنا لیا ہے اور وہ اس کے آگے اپنی ناک رگڑتے اور دعائیں کرتے اور حاجت براری کی اس سے امید رکھتے ہیں۔ان جگہوں پر آپ نے قربانی دے کر جو مساجد بنائی ہیں ان مساجد کو آباد کرنے کے لئے ہمیں تحریک جدید کے واقف چاہئیں۔پھر یہاں ملک میں کام کرنے کے لئے وقف جدید کے واقف چاہئیں۔بر پس آپ کوشش کریں کہ آپ کی گود میں پلنے والے اسلام کے ہر میدان میں مجاہد بنیں۔اگر میں جہاد کہوں تو کئی بیوقوف اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔کہ پتہ نہیں جہاد سے ان کا کیا مطلب ہے ایک طرف وہ ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم تلوار کے جہاد کے منکر ہیں اور کافر ہیں اور دوسری طرف جب ہم قرآن کریم کے جہاد کا نام لیتے ہیں تو اعتراض کرتے ہیں، دیکھو یہ کوئی سیاسی جماعت ہے جو سازش کر رہی ہے، پتہ نہیں کہ یہ حکومت کا تختہ کب الٹ دے۔ہمیں دنیوی حکومتوں سے کیا غرض اور واسطہ۔ہمیں تو خدا تعالیٰ کی حکومت کا قیام مدنظر ہے تازمین کے چپہ چپہ پر زمین کے بسنے والوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کے رسول محمد اللہ کی محبت قائم ہو جائے ، دنیا والوں اور دنیا داروں کو مبارک ہو۔ہمارے دل میں تو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی محبت ٹھنڈی کر دی ہے۔ہمیں دنیا سے کوئی غرض نہیں۔ہمیں دنیا کا کوئی لالچ نہیں ہمیں