خطبات وقف جدید — Page 95
95 حضرت خلیل لمسیح الثالث بجھانے کا ابھی پورا پورا انتظام نہیں ہوا۔تحریک جدید کے سلسلہ میں ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ہمیں مبلغ بھی چاہئیں اور روپیہ بھی چاہیے۔الغرض ایک ضرورت ہمارے سامنے ہے اور وہ ضرورت ہمیں پکار رہی ہے۔جماعت کے قیام کی اصل غرض کو ہمیں تحریک جدید کے ذریعے پورا کرنا ہے۔وقف جدید اور اس کی اہمیت امام کا کام تجویز میں جماعت کے سامنے رکھنا ہے اور ان تجویزوں کو عملی جامہ پہنانا جماعت کا کام ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دماغ ہر وقت سوچتا رہتا تھا۔حضور نے کام کو خوش اسلوبی سے چلانے اور اسے آگے بڑھانے کے لئے نئے نئے خیالات جماعت کے سامنے رکھے اور جماعت کو انھیں عملی جامہ پہنانے کے لئے تیار کیا۔جب حضور نے دیکھا کہ جماعت نے تعلیم و تربیت اور اشاعت کے ضمن میں اپنے فرض کو پورے طور پر انجام نہیں دیا ہے تو حضور نے اس خیال کے پیش نظر کہ اگر میں پردہ پوشی کروں گا تو خدا بھی پردہ پوشی سے کام لے گا۔جماعت کو اس کی غفلت پر تنبیہ کرنے کی بجائے ”وقف جدید کے نام سے ایک نئی تحریک چلا دی۔اس کے بہت خوشکن نتائج ظاہر ہوئے۔چنانچہ وقف جدید کے کارکن بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔اشاعت اسلام کے کام کے لئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے جذبہ۔وقف جدید والوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے اتنی علم کی ضرورت نہیں جتنا یہ امرضروری ہے کہ انسان میں جذبہ موجود ہو۔حقیقت یہ ہے کہ وہ اس بارہ میں بعض مبلغوں سے بھی بڑھ گئے ہیں۔جذبہ کے بعد دوسری چیز دُعا ہے۔جذبہ سے خدمتِ اسلام کی توفیق ملتی ہے اور دُعا سے کشش پیدا ہوتی ہے جس سے کوشش بار آور ہو کر نتیجہ پیدا کر دکھاتی ہے اس میں شک نہیں کہ وقف جدید کی تحریک خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا کام کر رہی ہے۔لیکن اس میں وسعت کی ابھی بہت گنجائش ہے۔سوال یہ ہے کہ کام کو پھیلانے اور اسے وسعت دینے کے لئے آدمی کہاں سے آئیں گے۔وہ آپ نے ہی مہیا کرنے ہیں۔مٹی کے بت بنا کر تو ہم ان سے کام نہیں لے سکتے اگر آپ تحریک جدید، وقف جدید اور صدرانجمن کے لئے حسب ضرورت مبلغین مہیا کرنے کی ذمہ داری اٹھالیں تو خدا تعالیٰ تھوڑے ہی عرصہ میں دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دے گا اللہ اکبر، اسلام زندہ باد، خلیفتہ اسیح الثالث زندہ باد کے نعرے) جماعت کی ذیلی تنظیمیں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کی