خطبات وقف جدید — Page 96
96 حضرت خلیفة المسیح الثالث تنظیمیں بھی قائم فرما ئیں جو بفضلہ تعالیٰ اپنی اپنی جگہ مفید کام کر رہی ہیں ان تنظیموں کی حیثیت جماعت میں ذیلی تنظیموں کی ہے ان کے کام تین قسم کے ہیں۔نمبر 1 : ایک وہ کام ہیں جو مرکزی نظام کے دائرہ کار سے تعلق رکھتے ہیں اور رضا کارانہ طور پر ان کے سپرد کئے گئے ہیں۔نمبر 2: کچھ کام مقامی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور رضا کارانہ حیثیت میں ان کے سپرد ہیں۔نمبر 3: کچھ نفلی کام ہیں اور وہ ان تنظیموں کے اپنے کام ہیں ، مثال کے طور پر تربیت کا جو کام خدام الاحمدیہ کے سپر د ہے وہ فی الاصل جماعت کا کام ہے اور جماعت کے رضا کاروں کی حیثیت سے ان کے سپرد کیا گیا ہے۔جہاں تک خدام الاحمدیہ کا تعلق ہے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام انھیں ماٹو کے طور پر دیتا ہوں ، وہ الہام یہ ہے۔تیری عاجزانہ را ہیں اس کو پسند آئیں ( تذکره صفحه 595) خدام الاحمدیہ کو بجز وانکسار تذلل اور تواضع کا نمونہ ہونا چاہئے۔یہ کوئی دنیوی جماعت نہیں یہ ایک دینی جماعت ہے اس کے ہر فرد کا عجز و انکسار، تذلل اور تواضع کے اوصاف سے متصف ہونا ضروری ہے۔جب خدا کے مسیح کو عاجزانہ را ہیں اختیار کرنے کی ضرورت تھی تو ہم متبعین کو بدرجہ اولیٰ عاجزانہ راہوں کی ضرورت ہونی چاہئے اور ہے۔میں انصار اللہ، خدام الاحمدیہ، لجنہ اماء اللہ، ناصرات الاحمدیہ اور اطفال الاحمد یہ ساری ذیلی تنظیموں کو ایک بنیادی کمزوری کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں یہ کمزوری اتنی نمایاں ہے کہ صاف نظر آ رہی ہے۔اس میں شک نہیں کہ اکثر بڑی بڑی جماعتوں میں ذیلی تنظیمیں قائم ہیں لیکن ابھی ہماری آٹھ سوایسی مقامی جماعتیں ہیں جن میں یہ ذیلی تنظیمیں فعال حیثیت میں موجود نہیں ہیں۔ہمیں سارے خدام کو ، ساری مستورات کو ، سارے انصار کو کم سے کم معیار تک جلد سے جلد لانا ہے۔آئندہ سال تمام تنظیموں کو توجہ دینی چاہیے کہ وہ اپنی اپنی مجالس کو منظم کرلیں اور انھیں فعال بنائیں۔آٹھ ، دس پندرہ ، ہیں یا چالیس پچاس تنظیموں کا فعال ہونا ہمارا مقصود نہیں۔ہر جگہ یہ تنظیمیں فعال حیثیت میں موجود ہونی چاہئیں۔6 الفضل ربوہ 16 جنوری 1966 ءص4)