خطبات وقف جدید — Page 3
3 حضرت مصلح موعود میں آیا ہوا تھا۔وہ مجھے ملا اور کہنے لگا کہ آپ یہاں کیسے تشریف لائے ہیں؟ میں نے اسے اپنی آمد کا مقصد بتایا اور کہا کہ عیسائیوں نے اپنے پریس میں ہمارا اخبار شائع کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر تمہارے خدا میں کوئی طاقت ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کوئی معجزہ دکھائے اور تمہارا اپنا پر لیس جاری کر دے۔پس میں اپنا علیحدہ پریس لگانے کے لئے چندہ اکٹھا کرنے آیا ہوں۔اس پر وہ احمدی دوست کہنے لگا کہ مولوی صاحب یہ تو بڑی بے غیرتی ہے کہ اب ہمارا اخبار ان کے پریس میں چھپے۔آپ یہاں کچھ دیر انتظار کریں میں ابھی آتا ہوں۔اُس کا گاؤں قریب ہی تھا وہ وہاں گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر اس نے 500 پونڈ کی رقم مولوی صاحب کے ہاتھ میں دے دی اور کہا کہ پریس کے سلسلہ میں یہ میرا چندہ ہے اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مد میں 2500 پونڈ کے قریب چندہ جمع ہو چکا ہے اور اب سنا ہے کہ پریس لگ رہا ہے یا کم از کم وہ انگلستان سے چل چکا ہے غرض ہمارے یہ مبلغ ایسے ممالک میں کام کر رہے ہیں جہاں جنگل ہی جنگل ہیں شروع شروع میں جب ہمارے مبلغ وہاں گئے تو بعض دفعہ انھیں وہاں درختوں کی جڑیں کھانی پڑتی تھیں اور وہ نہایت تنگی سے گزارہ کرتے تھے۔جس کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو جاتی تھی۔گو اب ہمارے آدمیوں کے میل ملاپ کی وجہ سے ان لوگوں میں کچھ نہ کچھ تہذیب آگئی ہے۔ان ممالک کو سفید آدمیوں کی قبر کہا جاتا ہے، کیونکہ وہاں کھانے پینے کی چیزیں نہیں ملتیں ، جب سفید آدمی وہاں جاتے ہیں تو وہ مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور پیچش وغیرہ بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔غرض اس زمانے میں حضرت اسمعیل علیہ السلام سے زیادہ سے زیادہ مشابہت ہمارے مبلغوں کو حاصل ہے۔جو اس وقت مشرقی اور مغربی افریقہ میں کام کر رہے ہیں۔کیونکہ وہ ملک اس وقت بھی جنگل ہیں اور دنیا میں کوئی اور ملک جنگل نہیں، امریکہ بھی آباد ہے، یورپ بھی آباد ہے اور مڈل ایسٹ بھی اب آباد ہو چکا ہے لیکن افریقہ کے اکثر علاقے اب بھی غیر آباد ہیں۔ان میں تبلیغ کرنے والوں کو بڑے بڑے لمبے سفر کرنے پڑتے ہیں اور بڑی جانکاہی کے بعد لوگوں تک اسلام پہنچانا پڑتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ ملک ہمارے لئے رکھے تھے تا کہ ہمارے نوجوان ان میں کام کر کے حضرت اسمعیل علیہ السلام سے مشابہت حاصل کریں۔پس خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے نوجوان افریقہ کے جنگلات میں بھی کام کر رہے ہیں۔مگر میرا خیال یہ ہے کہ اس ملک میں بھی اس طریق کو جاری کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی " کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں تحریک جدید کے ماتحت وقف کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگیاں براہ راست میرے سامنے وقف کریں