خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 58 of 682

خطبات وقف جدید — Page 58

58 حضرت مصلح موعود صلى الله صلى الله مجھے ذلیل کیا ہے۔چونکہ بنو ہاشم اور بنو امیہ دونوں خاندانوں میں دیر سے رقابت چلی آتی تھی اس لئے ابو سفیان نے خیال کیا کہ حضرت علی نے اس مخالفت کی وجہ سے مجھے یہاں مسلمانوں کے سامنے ذلیل کیا ہے لیکن یہ بیان صرف ابو سفیان کا ہے جو اس وقت کا فر تھا اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اس پر یقین کیا جائے۔اس کے بعد ابوسفیان رسول کریم ﷺ کے گھر کی طرف آیا اس کی ایک بیٹی حضرت ام حبیبہ رسول کریم ہے سے بیاہی ہوئی تھیں، وہاں ایک گدا بچھا ہوا تھا وہ اس پر بیٹھنے لگا تو حضرت ام حبیبہ نے وہ گڈا اس کے نیچے سے کھینچ لیا۔ابوسفیان نے کہا بیٹی میں اس گدا کے قابل نہیں ہوں یا یہ گڈ امیرے قابل نہیں ہے؟ اس نے یہ خیال کیا کہ چونکہ میں بڑا آدمی ہوں اس لئے شاید میری بیٹی نے میرے اعزاز کی وجہ سے یہ گڈا اٹھالیا ہے حضرت ام حبیبہ نے کہا کہ اے میرے باپ معاف کر ناتم میرے باپ ہو اور ادب کی جگہ ہومگر اس گذا پر محمد رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا کرتے ہیں اور تم ایک مشرک اور نا پاک شخص ہو سو میں اس گڈا پر جس پر خدا تعالیٰ کا رسول نماز پڑھا کرتا ہے خدا تعالیٰ کے دشمن کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ابوسفیان جھٹ اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے کہا میری بیٹی تو تو میرے بعد بہت بگڑ گئی ہے۔صلى الله (اصابہ جلد 2 صفحہ 85) اسکے بعد ابوسفیان مکہ والوں کو اپنی ناکامی کی خبر دینے کے لئے واپس لوٹا اور ادھر اسلامی لشکر جو دس ہزار کی تعداد میں تھا مدینہ سے روانہ ہو کر مکہ کے قریب خیمہ زن ہو گیا مکہ والے چونکہ بہت زیادہ خوفزدہ تھے انھوں نے ابوسفیان کو پھر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ دوبارہ مسلمانوں کے پاس جائے اور انھیں جنگ سے باز رکھے۔مگر مکہ سے تھوڑی دور نکلنے پر ہی ابوسفیان نے رات کے وقت جنگل کو آگ سے روشن پایا۔رسول کریم ﷺ نے حکم دے دیا تھا کہ ہر خیمہ کے آگے آگ روشن کی جائے۔ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔انھوں نے کہا یہ فلاں قبیلہ کے لوگ ہیں۔ابوسفیان کہنے لگا۔اس قبیلہ کے لوگ تو بہت تھوڑے ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ، یہ وہ نہیں ہو سکتے۔ساتھیوں نے پھر کہا، یہ فلاں قبیلے کے لوگ ہوں گے۔ابوسفیان نے کہا میں جانتا ہوں کہ اس قبیلہ کے لوگ بھی تھوڑے ہیں یہ ان سے بہت زیادہ ہیں ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اندھیرے میں سے آواز آئی ابوقنطلہ ( یہ ابوسفیان کی کنیت تھی ) ابوسفیان نے آواز پہچان کر کہا عباس تم یہاں کہاں؟ انھوں نے جواب دیا سامنے محمد رسول اللہ کا شکر پڑا ہے ابوسفیان گھبرایا اور اپنی سواری پر کھڑا ہو گیا اور اس نے خیال کیا کہ اب میری شامت آ گئی ہے کیونکہ میں نے ساری عمر محمد رسول اللہ اللہ کو دکھ دیا ہے۔حضرت عباس “ جو ابوسفیان کے گہرے دوست تھے اور پہرہ پر مقرر تھے انھوں نے کہا کمبخت جلدی سے میرے پیچھے سواری پر بیٹھ جاور نہ عمر میرے