خطبات وقف جدید — Page 600
600 حضرت خلیق اس ال اس د الله: اس احساس ا ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے کام لے وہ اپنی جان کے متعلق بخل سے کام لیتا ہے۔پھر فرمایا وَاِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَـومـ غَيْرَكُم ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمُ (محمد: 39) کہ اگر تم پھر جاؤ تو وہ تمہاری جگہ ایک اور قوم کو بدل کر لے کر آئے گا پھر وہ تمہاری طرح سستی کرنے والی نہیں ہوگی۔پس یہ مالی قربانیاں کوئی معمولی چیز نہیں ہیں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ایمان مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہونے کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے۔صحابہ کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پھل لگائے جس کا روایات میں کثرت سے ذکر آتا ہے۔شروع میں یہی صحابہ جو تھے بڑے غریب اور کمزور لوگ تھے، مزدوریاں کیا کرتے تھے۔لیکن جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی مالی تحریک ہوتی تھی تو مزدوریاں کر کے اس میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کیا کرتے تھے تا کہ اللہ اور اس کے رسول کا قرب پانے والے بنیں، ان برکات سے فیضیاب ہونے والے ہوں جو مالی قربانیاں کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہیں، جن کے وعدے کئے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا وہاں مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مُد اناج وغیرہ ملتا تو اس میں سے صدقہ کرتا۔تھوڑی سی بھی کوئی چیز ملتی تو صدقہ کرتا۔اور اب ان کا یہ حال ہے انہی لوگوں کا جوسب مزدوری کرتے تھے۔کہ ان میں سے بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار ہے۔(بخارى كتاب الاجارة ـ باب من آجر نفسه ليحمل على ظهره ثم تصدق به۔پس دیکھیں کہ ابتدائی حالت کیا تھی اور آخری حالت کیا ہے اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان پر فضل فرمائے۔ان کی قربانیوں کو کس طرح نوازا۔چندوں کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: میں یقیناً جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریا کاری کے موقعوں میں تو صد ہارو پیہ خرچ کریں اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے