خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 591 of 682

خطبات وقف جدید — Page 591

591 حضرت حلال است حال اس ادا الا عالی بنصرہ العزیز ویسے تو میں سمجھتا ہوں اگر کوشش کی جائے تو ایک کروڑ کی تعداد ہوسکتی ہے لیکن بہر حال پہلے قدم پر آپ اتنی کوشش بھی کر لیں تو بہت ہے۔کیونکہ 1957ء میں جب حضرت مصلح موعودؓ نے یہ تحریک شروع کی تھی تو جماعت کی اس تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ خواہش فرمائی تھی کہ ایک لاکھ چندہ دہند ہوں تو اس وقت کوائف تو میرے پاس نہیں ہیں کہ پاکستان میں کتنے شامل ہوئے لیکن یہ صرف تحریک پاکستان کے لئے تھی اور وہاں سے آپ ایک لاکھ مانگ رہے تھے تو اب تو پوری دنیا میں حاوی ہے دنیا بھر میں جو مجموعی وصولی کے لحاظ سے بالترتیب پہلی دس جماعتوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے وہ میں بتا دیتا ہوں پہلے نمبر پہ امریکہ ہے دوسرے پر پاکستان، تیسرے پہ، برطانیہ چوتھے پہ، جرمنی پانچویں پر، کینیڈا ( میرا خیال ہے جرمنی نیچے جارہا ہے ) چھٹے نمبر پہ ہندوستان، ساتویں نمبر پر انڈونیشا، آٹھویں پیجیئم ، نویں پر سوئٹزر لینڈ اور دسویں پر آسٹریلیا۔اس کے علاوہ فرانس ، ناورے ، ہالینڈ، سویڈن ، جاپان، سعودی عرب اور ابوظہبی وغیرہ کی جماعتیں جو ہیں انہوں نے بھی کافی کوشش کی ہے۔اور پاکستان کی جماعتوں کا علیحدہ ذکر ہوتا ہے اس میں اول کراچی ہے، دوئم لا ہور ہے سوئم ربوہ ہے، کراچی اور لاہور کا تو مقابلہ رہتا ہے۔کاروباری لوگ بھی ہیں اور ملازم پیشہ بھی ہیں ہوسکتا ہے ان کے کاروباروں میں فرق پڑا ہو لیکن پھر بھی کافی اضافہ ہے لیکن ربوہ میں اکثریت انتہائی کم آمدنی والوں کی ہے لیکن انہوں نے اپنی پوزیشن جو اول دوئم لیتے ہیں وہ برقرار رکھی ہوئی ہے۔پھر پاکستان میں بڑوں اور چھوٹوں کا، بچوں کا علیحدہ حساب رکھا جاتا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا۔خلافت ثالثہ میں بچوں کے لئے علیحدہ نظام شروع کیا گیا تھا۔اس لحاظ سے جو بڑوں کا چندہ وقف جدید ہے، بالغان کا اس میں راولپنڈی کا ضلع اول ہے۔سیالکوٹ ہے، پھر اسلام آباد ہے پھر فیصل آباد ہے، پھر گوجرانوالہ ہے، پھر میر پور خاص ہے، شیخو پورہ ہے ،سرگودھا ہے، گجرات ہے، کوئٹہ ہے۔اور بچوں یعنی دفتر اطفال کا ہے۔اس میں جو ضلعے ہیں اسلام آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، راولپنڈی ، شیخوپورہ، میر پور خاص، گجرات، فیصل آباد، نارووال اور بہاولنگر۔اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو جنہوں نے بڑھ چڑھ کر مالی قربانیوں میں حصہ لیا انہیں اپنی جناب سے بے انتہا اجر عطا فرمائے۔ان کے اموال و نفوس میں برکت عطا فرمائے۔ان کے اعمال کے باغ اور ان کی بیوی بچوں کے اعمال کے باغ ہرے بھرے اور پھولوں سے لدے رہیں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنے رہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ اور جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کرے گا میں اُمید نہیں رکھتا کہ اس کے مال کے خرچ سے اس کے مال میں کچھ کمی آجائے گی۔بلکہ اس کے مال میں