خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 539 of 682

خطبات وقف جدید — Page 539

539 حضرت خلیفة المسیح الرابع نہیں ہو سکتے۔ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں کہ متقیوں کو خود اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں بیان کیا ہے یہ سب بچے ہیں۔اور سلسلہ اہل اللہ کی طرف دیکھا جاوے تو کوئی ابرار میں سے ایسا نہیں ہے کہ بھوکا مرا ہو۔مومنوں نے جن پر شہادت دی اور جن کو اتقیاء مان لیا گیا ہے یہی نہیں کہ وہ فقر وفاقہ سے بچے ہوئے تھے گو اعلیٰ درجہ کی خوشحالیاں نہ ہوں مگر اس قسم کا اضطراری فقر وفاقہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ عذاب محسوس کریں۔رسول اللہ ﷺ نے فقر اختیار کیا ہوا تھا مگر آپ ﷺ کی سخاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود آپ نے اختیار کیا ہوا تھا نہ کہ بطور سزا تھا۔غرض اس راہ میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔بعض ایسے لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ بظاہر متقی اور صالح ہوتے ہیں مگر رزق سے تنگ ہوتے ہیں۔ان سب حالات کو دیکھ کر آخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے تو سب بچے ہیں لیکن انسانی کمزوری ہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 252 253) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں:۔معاش کی تنگی اور دوسری سنگیوں سے راہ نجات تقویٰ ہی ہے۔۔کوئی یہ نہ کہے کہ کفار کے پاس بھی مال و دولت اور املاک ہوتے ہیں اور وہ اپنی عیش وعشرت میں منہمک اور مست رہتے ہیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل دنیا داروں اور ظاہر پرستوں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں مگر در حقیقت وہ ایک جلن اور دُکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔تم نے ان کی صورت کو دیکھا ہے مگر میں ایسے لوگوں کے قلب پر نگاہ کرتا ہوں۔وہ ایک سعیر اور سلاسل واغلال میں جکڑے ہوئے ہیں۔“ الحکم جلد 5 نمبر 11۔24 / مارچ1901 ، صفحہ 3) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔"جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا ، اس کو اللہ تعالیٰ ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ جس طور سے معلوم بھی نہ ہو گا۔رزق کا خاص طور سے اس واسطے ذکر کیا کہ بہت سے لوگ حرام مال جمع کرتے ہیں اگر وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کریں اور تقویٰ سے کام لیویں تو خدا خودان کو رزق پہنچاوے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 374)