خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 538 of 682

خطبات وقف جدید — Page 538

538 حضرت خلیفة المسیح الرابع نے فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ ہی قیمتیں مقررفرمانے والا ہے، ہنگی پیدا کرنے والا ہے، فراخی عطا کرنے والا ہے اور رزق دینے والا ہے۔اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ میں اپنے رب سے ایسے حال میں ملوں گا کہ تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہو گا جو کسی خونی یا مالی جھگڑے کے بارہ میں فلم کا الزام دے کر مجھ سے بدلہ کا مطالبہ کر سکے۔(ترمذى كتاب البيوع باب ماجاء في التسعير ) اس حدیث میں خاص طور پر یہ بات قابل ذکر ہے اور آنحضرت ﷺ کا بیان فرمودہ بہت ہی عمدہ اقتصادی اصول ہے۔اقتصادی اصولوں کو جبر حکومت کی وجہ سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔اگر کوئی مہنگائی ہو رہی ہے تو زبردستی مہنگائی کم کریں گے تو وہ چیزیں ایک دم غائب ہو جائیں گی جو مارکیٹ سے کم سے کم کچھ مہنگی قیمت پیل تو جاتی تھیں۔تو یہ ایسا بنیادی اصول آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جس کے نتیجہ میں یہ سبق ہمیشہ کیلئے ہمیں ملتا ہے کہ اقتصادیات پر جب کوئی نہیں ہوا کرتا۔آنحضرت ﷺ نے انکار فرما دیا کہ میں ہرگز اقتصادی جبر نہیں کروں گا۔جس قیمت پر جو ملتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قانون بنایا ہے اسکے مطابق عمل کرو۔ابن ماجہ کتاب الادب میں ہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو استغفار کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کیلئے ہر غم سے رہائی کی راہ نکال دیتا ہے اور ہر تنگی سے سہولت پیدا کر دیتا ہے اور اسے ان راہوں سے رزق عطا کرتا ہے جس کا وہ گمان نہیں کرسکتا۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: الله قبض و بسط رزق کا ستر ایسا ہے کہ انسان کی سمجھ میں نہیں آتا۔(سمجھ میں نہیں آتا کیوں کسی کا رزق کم کیا گیا ہے ، کیوں کسی کا رزق زیادہ کیا گیا ہے۔) ایک طرف مومنوں سے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں وعدے کئے ہیں مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق:4)۔یعنی جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اسکے لئے اللہ کافی ہے۔پھر ہے مَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَّ يَرُزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ الطلاق : 443) جو اللہ تعالیٰ کیلئے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسکوایسی جگہ سے رزق دیتا ہے کہ اس کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔پھر باوجودان وعدوں کے دیکھا جاتا ہے کہ کئی آدمی ایسے دیکھے جاتے ہیں جو صالح اور متقی اور نیک بخت ہوتے ہیں اور ان کا شعار اسلام صحیح ہوتا ہے مگر وہ رزق سے تنگ ہیں۔رات کو ہے تو دن کو نہیں ، دن کو ہے تو رات کو نہیں۔اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں مگر تجر بہ دلالت کرتا ہے کہ یہ امور خدا کی طرف منسوب