خطبات وقف جدید — Page 447
447 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع قادر ہے اور رزق عطا فرمانے والا اسکو وسعتیں دینے والا اس میں کمی پیدا کر نیوالا ، ہر طرح کے اختیار رکھتا ہے۔وہ کہہ رہا ہے کہ تم سے جو میرا سودا ہے اسمیں مال کی قربانی شامل ہے۔دوسرے جگہ جگہ بار بار فرماتا ہے کہ فی سبیل اللہ خرچ کرو فی سبیل اللہ خرچ کرو اور اسے ایک مومن کی سوچ کا ایک لازمی ابدی جزو بنا دیا گیا ہے۔آغا ز ہی میں مومنوں کی تعریف متقیوں کی تعریف ہی یہ فرما دى: الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ( البقرة : 2 تا 4 وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو عبادت کو قائم کرتے ہیں اور تیسری بات وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو ہم نے ان کو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔تو قرآن کریم کو جو سمجھتا ہے یا سرسری نظر سے بھی پڑھتا ہے اس کے ذہن میں جماعت کے مالی قربانی کے نظام پر کوئی اعتراض پیدا ہو ہی نہیں سکتا اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا۔اور پھر جیسا کہ میں نے واقعات سے ثابت کیا ہے جہاں حرص کا سوال ہو وہاں مالی قربانی طوعی طور پر مانگی جاہی نہیں سکتی۔حرص کے برعکس مضمون ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہاں فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم فرمایا ہے تم نے اموال خرچ کرنے ہیں، بڑی بڑی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے لیکن یا درکھنا کہ تقویٰ کا معیار بڑھاؤ گے تو یہ کر سکو گے ورنہ ہمارے تقاضے پورے نہیں کر سکو گے۔اللہ سے تقویٰ کی استطاعت مانگو۔تقویٰ بڑھے گا تو مال خود بخود پھوٹ پھوٹ کر خدا کی راہ میں نکلیں گے اور یہ ہمارا ساری زندگی کا تجربہ ہے، ساری زندگی کے تجربہ کا نچوڑ ہے کہ جن کا تقویٰ کا معیار بلند ہوتا ہے ان کے دلوں سے پہلے مال پھوٹتے ہیں پھر انکی جیبوں سے نکلتے ہیں۔بعض دفعہ ایسا ان میں جوش پایا جاتا ہے کہ زبردستی الله روکنا پڑتا ہے اور یہ آج کے زمانے کی بات نہیں آنحضرت ﷺ کے زمانے ہی میں یہ رسمیں جاری ہو ئیں اور انہی کی آگے یہ شاخیں ہیں یا انہی کا ورثہ ہے جو ہم کھا رہے ہیں۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں کسی نے کچھ مال پیش کیا آپ نے فرمایا گھر کے لئے کچھ چھوڑ کے آئے ہو کہ نہیں ؟ اور بعض دفعہ جواب ہوا کہ یا رسول اللہ! اللہ اور رسول کی محبت ، وہی ذکر ہے جو گھر پہ چھوڑ آئے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔پھر بعضوں سے قبول کیا اور بعضوں سے قبول نہیں کیا بعضوں کو کہا آدھا کر دو۔کسی سے تیسرا حصہ لیا اور باقی چھوڑ دیا۔اس میں حکمتیں کیا ہیں وہ تو اللہ نے بعض میں از خود ظاہر فرما دیں بعض صورتوں میں مگر مراد یہی ہے کہ یہ جور میں چلیں کہ سب کچھ حاضر کر دو یہ تقویٰ کے معیار سے براہ راست پھوٹی تھیں اور فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُم کی ایسی زندہ مثالیں تھیں جنہوں نے دائمی ہو جانا تھا ان کی نسل سے پھر آگے ایسی مثالوں نے پھوٹنا تھا۔