خطبات وقف جدید — Page 448
448 حضرت خلیلة امسیح الرابع پس جماعت احمدیہ میں جو خدا کے فضل سے یہ عظیم الشان قربانی کے مظاہرے نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے۔پس جماعت احمدیہ کی طرف سے اگر مالی قربانیاں بڑھ رہی ہیں تو یہ اس بات کا ایک پیمانہ ہے اللہ کے فضل کے ساتھ ان کے تقویٰ کا معیار بڑھ رہا ہے ، یہ اس بات کا پیمانہ ہے اللہ کے فضل کے ساتھ ان کی حرص کم سے کم تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔بہت ہی عظیم الشان Tribute جس کو کہتے ہیں ایک خراج تحسین ہے جو جماعت کی قربانیاں عمومی حیثیت سے جماعت کو دے رہی ہیں۔دنیا میں کوئی نہیں ہے جو ایسی جماعت پیدا کر کے دکھا سکے۔چیلینج ہے کوئی ہے تو آگے بڑھ کر قبول کر کے دکھائے۔بسا اوقات میری گفتگو ہوئی ہے مستشرقین سے اور بعض بڑے بڑے سوچنے والوں سے اور ان سے جب میں نے یہ پہلو کھول کر بیان کیا تو بالکل گنگ ہو گئے۔میں نے کہا تم کہتے ہو ایجنٹ کسی کے الزام لگتا ہے تم پر کوئی ایجنٹ بنا کے تو دکھاؤ کہ جو اپنی جیبوں سے خرچ کر رہے ہوں اور اپنی بقا کیلئے کسی اور کے محتاج نہ ہوں۔ایسے ایجنٹ پھر پاگل ہی ہوں گے۔تو بہتر ہے پاگل کہا کرو بجائے ایجنٹ کہنے کے۔ایجنٹ پیسے کھاتا ہے اور اگر وہ ایجنٹ نہ بھی ہو تو پیسے مانگ مانگ کے کام کرتا ہے لیکن وہ کس قسم کا ایجنٹ ہے جو اپنا سب کچھ فدا کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر دیتا ہے۔وقف زندگی کے نظام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔جب اس کو قبول نہ کیا جائے تو روتا ہوا احتجاج کرتا ہے اور جب اسکی مالی قربانیاں واپس کی جائیں تو بے چین زندگی گزارتا ہے۔کئی ایسے احمدی ہیں جن کو بعض کمزوریوں کی وجہ سے یہ سزا دینی پڑی کہ تم سے چندہ وصول نہیں کیا جائے گا اور آئے دن مجھے خط ملتے ہیں ایک کل بھی ملا تھا کہ خدا کے واسطے بس کریں زندگی بے چین ، بے قرار ہوگئی ہے۔لطف اٹھ گیا ہے زندگی کا۔پہلے ہم چندہ دیتے تھے تو اللہ کے احسان سے لطف اٹھاتے تھے کہ خدا نے ہمیں توفیق دی اور باقی مال کھانے کا مزہ آتا تھا اب تو سارا مال حرام لگتا ہے۔تو جس جماعت کا یہ معیار ہو اس کے متعلق کوئی زبان دراز کرتا ہے تو تمہیں کیا فکر ہے اسکی۔ایسی جماعت کوئی اور پیدا تو کر کے دکھائے کہ جن کی جانیں واپس کی جائیں تو وہ روتے ہوئے واپس جائیں۔یہ بھی تو قرآن کی گواہی کے مطابق وہی پہلی رسم ہے جو دوبارہ زندہ ہوئی ہے۔قرآن کریم ایسے لوگوں کا ذکر جانی قربانی کے سلسلے میں فرماتا ہے کہ ایسے لوگ محمد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے جو میدان جنگ میں جہاد کی طرف جا کر اپنی جانیں نثار کرنا چاہتے تھے اور رسول کریم ﷺ نے یہ کہ کر انکار فرما دیا کہ میرے پاس سواریاں نہیں ہیں دور کا سفر ہے میں تمہیں کیسے لے جاؤں؟ قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس حال میں لوٹے کہ انکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس اتنا بھی نہیں ہے کہ ہم خدا کے حضور اپنی جان پیش کر سکیں۔واقعہ ایسی باتیں آج کے زمانے میں اگر دہرائی