خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 441 of 682

خطبات وقف جدید — Page 441

441 حضرت خلیفہ امسیح الرابع کھیلوں کے پروگرام کے متعلق جو میں نے ٹیم مقرر کی ہے وہ جب یہ کام مکمل کر لے گی تو مختلف کھیلوں کے احمدی پروگرام بھی احمد یہ مسلم انٹرنیشنل ٹیلی ویژن پر آپ کو دکھائے جائیں گے۔باہر سے پروگرام مل تو سکتے ہیں مثلاً تیرا کی کا اور بیڈ منٹن وغیرہ کا بھی لیکن ان میں کچھ مشکلات ہیں اول یہ کہ یہ لوگ جب تک بیچ میں ننگے جسم نہ دکھا لیں ان کو چین ہی نہیں پڑتا۔فٹ بال سکھانا چاہیں تو پھر بھی بے حیائی ساتھ جائے گی، تیرا کی سکھانا چاہیں تو اور بھی زیادہ بے حیائی ساتھ آئے گی اور پھر میوزک کے بغیر تو رہ ہی نہیں سکتے۔ہم نے سوچا ہے کہ اپنے پروگرام بنائیں ماہرین ان کے ہوں ، مزاج ہمارا ہو اور میوزک کی بجائے درود شریف پڑھے جائیں، میوزک کے بغیر خوبصورت آواز میں نغمے ہونگے، حمد وثنا ہوگی وقفہ جو بیچ میں لانا ہے تا کہ ”منا پلی“ (Monopoly) یعنی یکسانیت توڑی جائے وہ وقفہ بھی پاکیزہ باتوں کا وقفہ ہو گا لیکن طبیعت اس سے لذت پائے گی تو اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ کھیلوں کا پروگرام بھی جاری ہوگا۔پھر قاعدہ یسرنا القرآن ہے اس کا تمام زبانوں میں ترجمہ کرنا مشکل کام ہے اگر ترجمہ کر بھی دیا جائے تو قرآن کا صحیح تلفظ سیکھنا قاعدوں کے ذریعے ممکن ہی نہیں ہے۔استاد کی لازما ضرورت پڑتی ہے۔پس اس سلسلے میں بھی ہم خدا کے فضل سے پروگرام شروع کر چکے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں کو ان کی زبانوں میں قرآن کی تلاوت کرنے کا طریقہ سکھائیں جیسے ہاتھ پکڑ کر بچوں کو کھایا جاتا ہے اس طرح انگلی نقطوں پر رکھ رکھ کر ان کو سکھائیں گے، ہمارے پاس گھلا وقت ہے وقت دے کر ان کو سکھائیں گے۔پروفیشنل میں ایک یہ بھی مسئلہ ہے کہ چونکہ انھوں نے کمائی کرنی ہوتی ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ معلومات تھوڑے وقت میں بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔زبانیں بھی آپ ویڈیو کے ذریعے سیکھنے کی کوشش کریں تو تین گھنٹے ، چار گھنٹے، چھ اور نو گھنٹوں سے زیادہ کی ویڈیو نہیں ملے گی اور اس عرصے میں انسان تیزی کے ساتھ ان زبانوں کو جذب کر ہی نہیں سکتا ہم نے جو پروگرام بنایا ہے خواہ وہ زبانوں کا ہو یا قرآن کریم پڑھنے لکھنے کا ہو وہ آرام سے چلے گا ایک سال تک لکھنا پڑھنا سکھائے بغیر مسلسل زبان سکھائی جائے گی، جب زبانوں میں اتنی مہارت حاصل ہو جائے گی جیسے تین چار سال کا بچہ جو لکھنے پڑھنے کے قابل ہوتا ہے اسے مہارت ہو جاتی ہے اور پھر اسی طریق پر جیسے بچے کولکھنا پڑھنا سکھایا جاتا ہے مختلف زبا نہیں لکھنی پڑھنی سکھائی جائیں گی اور اسی طرح خدا کے فضل سے پورا وقت لے کر قرآن سکھایا جائے گا۔اگر چار گھنٹے یا دس گھنٹے کی بھی فلم ہو تو اسے دیکھ کر اگر ایک آدمی زبان سیکھنا چاہے تو چند ایک ٹکسالی کے فقرے تو جان لے گا لیکن زبان کا فہم اسے نصیب نہیں ہو سکتا اس کے لئے صبر اور تحمل کی ضرورت ہے، سہج پکنا چاہئے اور ہم نے جو پروگرام بنایا ہے وہ ایسا ہی ہوگا۔ایک ایک زبان سکھانے کی کئی سو گھنٹے کی ویڈیو ہوگی اور جب وہ آگے بڑھے گی تو سننے والے