خطبات وقف جدید — Page 427
427 حضرت خلیفہ مسیح الرابع ہزار 6 59 ہو چکی ہے لیکن یہ وصولی دراصل صحیح حقیقت پیش نہیں کر رہی کیونکہ بیرونی دنیا میں اکثر ممالک میں دفتر اطفال کا الگ طور پر ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔اس لئے آئندہ سے اگر تمام دنیا کی جماعتیں دفتر اطفال کا حساب الگ رکھنا شروع کر دیں تو اُس سے صحیح شکل سامنے آئے گی اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بہت سی مائیں اپنے بچوں کی طرف سے چندے دیتی ہیں اور بچوں کو پتہ ہی نہیں لگتا اور دفتر اطفال کے قیام کے لئے بہت حد تک یہ غرض پیش نظر تھی کہ بچوں کو علم ہو کہ وہ بھی چندہ دے رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں سے چندے نکلیں اور انہیں چندوں کا شوق پیدا ہو اور بچپن کی چندوں کی یا دیں آئندہ ان کے چندے دینے کے لئے ضمانت بن جائیں یا ممد ثابت ہوں۔میں نے اس سلسلہ میں اپنی ان دو بچیوں سے سوال کیا جو شادی شدہ ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہاں وہ سب بچوں کی طرف سے چندے دے رہی ہیں لیکن جب پوچھا کہ ان کو علم ہے تو پتہ لگا کہ نہیں۔یہ غلطی ہے۔ہماری والدہ تو ہمیں بتا کر بلکہ پیسے دے کر پھر واپس لیا کرتی تھیں یہ سمجھا کر کہ تم چندہ دے رہے ہو میں نہیں دے رہی۔اس کا دل پر بڑا گہرا نقش مثبت رہا اور ہمیشہ رہے گا۔اس لئے اطفال کی تحریک کے سلسلہ میں تمام دنیا کی جماعتوں کو میں متوجہ کرتا ہوں کہ بچوں کے دفاتر اپنے ہاں قائم کریں اور آئندہ سے جو ماں باپ بچوں کی طرف سے چندہ دیں ان کو بتا کر دکھا کر دیں بلکہ ان کو دے کر پھر واپس لیں اور کہیں کہ یہ تمہاری طرف سے چندہ ہے۔اگر ایسا کریں گے تو بچوں کے چندوں میں بھی ایک فرق آنا شروع ہو جائے گا۔بچوں کے وہ چندے جو ماں باپ کی طرف سے لکھائے جاتے ہیں مثلاً پاکستان میں اگر چھ روپے مقرر ہے تو اکثر صورتوں میں چھ روپے ہی رہتے ہیں لیکن جہاں بچے شامل ہو جائیں اور اپنے مزاج اور اپنے شوق کے مطابق لکھوائیں تو وہاں اونچ نیچ پیدا ہو جاتی ہے۔کوئی بچہ چھدے رہا ہے کوئی دس دے رہا ہے۔کوئی پندرہ دے رہا ہے۔بعض بچے اپنے جیب خرچ اکٹھے کرتے ہیں اور پھر وہ ساری کی ساری جمع شدہ رقم دے دیتے ہیں۔تو دراصل یہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر دفتر اطفال کو الگ کیا گیا تھا۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ باقی دنیا میں بھی دفتر اطفال الگ ہوگا تو آئندہ نسلوں کی تربیت کی بہت توفیق ملے گی۔پاکستان میں دفتر اطفال میں جو اول دوم، سوم آئے ہیں اب اُن کا اعلان کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو اہل ربوہ خوشخبری سننے کے لئے تیار ہو جائیں۔سارے پاکستان میں دفتر اطفال میں سب سے زیادہ ربوہ کے بچوں نے حصہ لیا ہے اور کمیت کے لحاظ سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی۔خدا کے فضل سے ربوہ کے بچوں نے 88538 روپے اس مد میں ادا کئے۔دوسرے نمبر پر لاہور کی باری ہے اور تیسرے نمبر پر کراچی کی لیکن مجھے یہ خیال ہے کہ کراچی زیادہ دیر تک تیسرے نمبر پر نہیں رہے گا۔وہ یہ سن کر کافی شرمندہ