خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 417 of 682

خطبات وقف جدید — Page 417

417 حضرت خلیفہ امسیح الرابع دفعہ اپنے بجٹ کے بالکل مختلف حالات پیش کر دیتی ہیں حالانکہ اعداد و شمار درست ہوتے ہیں اپنی مرضی کی بات ہے کہ کس قسم کے اعداد وشمار کو کس طرح پیش کیا جائے۔اب دیکھیں نا! جب ہم بھی مختلف زاویوں سے پہلو بدل بدل کر اعداد وشمار آپ کے سامنے رکھتے ہیں جیسا کہ گوئٹے مالا کی تعداد 7 تھی 13 ہوگئی لیکن یہاں واقعی گوئٹے مالا نسبتاً زیادہ قابل داد ہے کیونکہ گی آنا کے مقابل پر گوئٹے مالا کے احمدیوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی ہے کیونکہ ابھی نیا مشن قائم ہوا ہے اس پہلو سے 7 کا 13 ہونا اللہ کے فضل کے ساتھ یقیناًا معنی رکھتا ہے اور انشاءاللہ تعالیٰ اس میں اور بھی اضافے ہونگے۔اب ہم امریکہ اور جرمنی کی طرف آتے ہیں۔امریکہ کے چندہ دہندگان کی تعداد گزشتہ سال 1623 تھی امسال یہ بڑھ کر خدا کے فضل سے 2548 ہوئی ہے۔1623 کو 2548 میں بدلنا یقیناً محنت طلب کام ہے کافی وسیع پیمانے پر لمبے عرصہ تک محنت کی گئی ہوگی۔جرمنی میں 3570 تعداد تھی جو بڑھ کر 5560 ہوئی ہے تقریباً دو ہزار نئے چندہ دہندگان شامل کئے گئے ہیں یہ بھی بہت بڑی کامیابی ہے۔بہت عظیم اور مسلسل محنت کی مظہر کا میابی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ آگے سے آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔کینیڈا نے بھی تعداد بڑھانے میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ان کی رپورٹ جب میں آپ کے سامنے رکھوں گا تو اس میں اس کا ذکر ملتا ہے۔جماعت احمد یہ عالمگیر کی پہلی دس جماعتیں جو فی کس چندے کے لحاظ سے سب سے آگے ہیں اب میں انکی فہرست آپکے سامنے پیش کرتا ہوں۔جن جماعتوں کو بہت اعلیٰ کارکردگی دکھانے کی توفیق ملی ہے ان کے نام صرف فخریہ طور پر نہیں پڑھے جاتے بلکہ ایک تو مسابقت کی روح آگے بڑھانے کے لئے پڑھے جاتے ہیں تا کہ جن جماعتوں میں یہ روح کچھ مدھم ہے وہ جاگ اٹھے، کچھ چمک اٹھے، نئے ولولے پیدا ہوں۔دوسرا بڑا مقصد ان جماعتوں کے لئے دعا کی تحریک کرنا ہوتا ہے حقیقت یہ ہے کہ جماعت احمد یہ کی ہر بات کی تان بالآخر دعا پر ٹوٹتی ہے۔پس جب ان جماعتوں کے لئے آپ دعا کریں تو ان کمزور جماعتوں کے لئے بھی دعا کریں جن کو ابھی تک قربانی کے میدان میں آگے آنے کی توفیق نہیں ملی تا کہ ہمارے مقابلے صرف دو یا تین گھوڑوں میں نہ رہیں بلکہ چالیس پچاس ساٹھ گھوڑے گردن کے ساتھ گردن ملا کر دوڑ رہے ہوں اور کچھ پتہ نہ ہو کہ کون آگے نکلے گا۔یہ وہ جذبہ ہے جو قرآنِ کریم کی اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ لِكُلِّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلَّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ کہ خدا تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے ایک نصب العین مقرر فرما دیا ہے اور اسے محمد مصطفی ﷺ کے غلامو! تمہارے لئے نصب العین یہ ہے کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے مسابقت کرو ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو مسلسل دوڑتے ہوئے۔