خطبات وقف جدید — Page 416
416 حضرت خلیفہ مسیح الرابع بہت بڑی بات ہے۔مالی قربانی کا وعدہ کرنا عموماً اس کی نسبت آسان ہوا کرتا ہے کہ پھر ادا ئیگی بھی کی جائے اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب سال ختم ہونے کا وقت آتا ہے تو جماعتوں کو اور کارکنوں کو یہی خطرہ ہوتا ہے کہ ہم وعدہ پورا کرسکیں گے کہ نہیں۔اس پہلو سے امریکہ دنیا کی ساری جماعتوں سے آگے بڑھا ہے۔اور پاکستان اس میں شامل ہے پاکستان بھی اپنے وعدے کے مطابق اس طرح وصولی نہیں کر سکا جس طرح امریکہ نے کی ہے اور غیر معمولی طور پر زیادہ کی ہے۔دوسرے نمبر پر کینیڈا کی باری ہے۔ان کا وعدہ پندرہ ہزار تھا اور 24238 وصولی ہوئی گویا کہ 61۔58 فیصد اضافہ وعدے کے مقابل پر وصولی میں ہوا۔اور پھر جرمنی کی باری نمبر تین پر ہے 32653 وعدہ تھا یہ وہی وعدہ ہے جس پر نظر کر کے امیر صاحب امریکہ سمجھتے تھے کہ اب تو جرمنی کو ہم نے وہ مارا اور وہ مارا، بہت پیچھے رہ جائے گا لیکن ان کو بھی خدا نے اپنے فضل سے توفیق بخشی اور 32 ہزار کے وعدے کے مقابل پر 52460 کی وصولی ہوئی۔اس طرح انھوں نے وعدے میں 60۔65 فیصد اضافے کے ساتھ چندہ ادا کیا۔جہاں تک چندہ دہندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کا تعلق ہے اس میں اول ، دوم، سوم چہارم وغیرہ آنے والے ممالک کے نام پڑھ کر میں سناتا ہوں مگر یہ یا درکھیں کہ جو بہت چھوٹے ممالک ہیں جن میں تعداد بہت تھوڑی ہے ان کا نام اگر چہ پہلے آجائے گا لیکن خدمت کا جو معیار ہے یہ اس سے ظاہر نہیں ہوگا خدمت کا معیار ان جماعتوں میں ظاہر ہو گا جن جماعتوں میں نسبتاً بہت بڑی تعداد ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اضافے کئے گئے ہیں یا کم از کم سینکڑوں کی تعداد میں اضافے کئے گئے ہیں۔پس چھوٹی جماعت ہونے کے لحاظ سے ان کو یہ فائدہ تو پہنچ گیا ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے وہ اول دوم سوم میں شمار ہونے لگے ہیں لیکن فی الحقیقت کام کی نوعیت اور بوجھ اٹھا کر چلنے کے اعتبار سے بعض بعد میں آنے والے خدمت کے میدان میں ان سے آگے سمجھے جانے چاہئیں۔بہر حال اس لحاظ سے سہرا سوئٹزر لینڈ کے سر ہے۔گزشتہ سال 26 تعداد تھی۔اس سال 83 ہوگئی ہے جبکہ 219 فیصد اضافہ ہے اس کے بعد تھیم کی باری آتی ہے تعداد 17 سے بڑھ کر 54 ہوگئی ہے اور 217 فیصد اضافہ۔پھر گی آنا (GUYANA) کی باری ہے 13 تعداد تھی جو 28 ہو گئی اب دیکھ لیں کہ اعداد و شمار بعض دفعہ سچ بولنے کے باوجود جھوٹ بول جاتے ہیں یعنی بظاہر ایک سچی بات ہے لیکن جو تا ثر ہے وہ جھوٹا ہے۔گی آنا میں جماعت احمدیہ کی تعداد خدا کے فضل سے کافی ہے اور ان کے لئے 13 ہونا بھی قابل شرم ہے اور 28 ہونا بھی قابلِ شرم ہے۔اسلئے محض اعداد وشمار کافی نہیں ہوا کرتے۔اعداد و شمار کے ساتھ اس کے ماحول کی کچھ باتیں ہیں۔ان کو دیکھنے کے بعد اعداد و شمر کا پیغام صحیح پہنچا کرتا ہے ورنہ Juggling with figures محاورہ ہے۔یہ کر کے حکومتیں بعض