خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 415 of 682

خطبات وقف جدید — Page 415

415 حضرت خلیفہ امسیح الرابع ہے کہ حضرت بدھ کے زمانے کا ہے بہر حال جو بھی اس کا زمانہ تھا لیکن یہ میں نے دیکھا کہ اتنا پھیل چکا تھا کہ ہمارا بڑے سے بڑا جلسہ سالانہ یعنی اڑھائی لاکھ والا جو جلسہ سالانہ تھا وہ اس کے اندر سما سکتا تھا۔پارکنگ Lots بھی بن سکتی تھیں۔پھر بھی جگہ باقی رہ جاتی تھی۔تو جماعت احمدیہ کو جو درخت کے مشابہ قرار دیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ”میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو“ تو میں سمجھتا ہوں کہ ان شاخوں میں بھی از سر نو درخت بننے کی صلاحیت رکھی گئی ہے۔اس لئے جہاں جہاں بھی جماعتیں پھیلتیں ہیں وہ وہاں زمین میں اپنی جڑیں پیوست کریں اور خود نشو و نما حاصل کرنا شروع کریں محض پرانی جڑوں پر انحصار نہ کریں۔اس پہلو سے ہر ملک کے باشندوں کو چاہئے کہ وہ پاکستانی یا ہندوستانی نسل کے لوگوں سے جن پر سب سے پہلے احمدیت کی ذمہ داری ڈالی گئی ان پر اپنا انحصار ان معنوں میں نہ رکھیں کہ وہی جڑیں بنی رہیں اور یہ شاخیں بن کر ان سے رس چوستے رہیں بلکہ خود اپنے اپنے ملک میں جڑیں قائم کریں لیکن بڑ کی شان کے ساتھ وفاداری کے ساتھ اپنی جڑیں قائم کر کے اصل درخت سے الگ نہ ہوں بلکہ اس کا وجود بنے رہیں تب ان پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ توقع صادق ہوگی کہ اے میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو اگر انھوں نے جڑیں الگ کر لیں اور اپنے درخت بھی الگ کر لئے تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود کی سرسبز شاخیں نہیں رہیں گی بلکہ کسی اور شیطانی وجود کی شاخیں بن جائیں گی یعنی سابق تعلق کٹ جائے گا اور ایک الگ شخصیت ابھر کر باہر نکلے گی جس کا اللہ کے قائم کردہ مامور سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔پس اسی وجہ سے میں نے باقاعدہ سوچ کر انتخاب کر کے بڑ کے درخت کی مثال آپ کے سامنے رکھی ہے جڑیں ضرور بنائیں مگر اصل کے ساتھ ہمیشہ وابستہ اور پیوستہ رہیں اسی میں آپ کی امید بہار ہے اسی سے آپ انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیش کے لئے نیکی کے کاموں میں آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔جاپان کا نمبر ساتواں ہے اور ناروے کا آٹھواں اور ماریشس کا نواں اور سوئٹزر لینڈ کا دسواں یعنی چندہ کی ادائیگی کے لحاظ سے خدا کے فضل سے یہ پہلی دس جماعتیں ہیں جنھوں نے نمایاں طور پر وقف جدید کا چندہ ادا کیا ہے۔جن جماعتوں نے وعدہ کے مقابل پر غیر معمولی طور پر زائد وصولی کی ہے ان میں امریکہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا سب سے اول ہے۔ان کا وعدہ 29829 پاؤنڈ تھا اور وصولی 55801 ہوئی ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان کو اپنے وعدے پر 87۔06 فیصد زائد ادا کرنے کی توفیق ملی یہ ایک