خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 328 of 682

خطبات وقف جدید — Page 328

328 حضرت خلیفة المسیح الرابع پردہ دری نہ ہو ان پر خدا کی ستاری کا پردہ پڑا رہے لیکن بعض اضلاع ایسے ہیں جن سے ہر گز توقع نہیں تھی کہ وہ پہلی رفتار پر رہیں گے یا ان کا قدم پیچھے رہ جائے گا ان میں پنجاب کے بعض بڑے بڑے اضلاع ہیں جنہوں نے اس لحاظ سے بہت مایوس کیا ہے۔یہ خدا کا خاص فضل ہے کہ ان کی کمزوری کے باوجود پھر بھی وقف جدید کا قدم نمایاں طور پر پچھلے سالوں کی طرح آگے ہی بڑھا ہے۔اگر یہ اضلاع کمزوری نہ دکھاتے تو اس وقت تصویر بہت ہی بہتر شکل میں ابھرتی۔ان سب جائزوں سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ بعض جگہ امراء اضلاع تقریریں تو بہت کرتے ہوں گے یار پورٹیں بھی بھجواتے ہوں گے لیکن ٹھوس کام کی اہلیت نہیں رکھتے یعنی ایک ایک جماعت کی طرف توجہ کرنا۔ایک ایک جماعت کا حوصلہ بڑھانا عمومی طور پر جائزے لیتے رہنا۔ہر جہت سے جائزے لیتے رہنا۔بعض امراء ہیں جن میں بڑی محنت کی عادت بھی ہے صرف تقریریں نہیں کرتے بلکہ کام بھی بڑا کرتے ہیں لیکن یہ کمزوری ہے کہ ایک دو جہتوں میں کام کرتے ہیں تو با قی جہتوں کو بھلا دیتے ہیں ان کی طرف توجہ ہوئی تو پہلی جو صورتیں تھیں وہ نظر سے اوجھل ہو گئیں اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے توازن پر زور دیا گیا ہے۔مومن کی شخصیت جو قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہے وہ متوازن شخصیت ہے، امت محمدیہ کو بھی اُمَّةً وَسَطًا قرار دیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ کو بھی ایک انتہائی کامل طور پر متوازن وجود کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔قیم ہیں لَا عِوَجَ لَهُ آسمیں کوئی کمی بیشی نہیں کوئی ٹیڑھا پن نہیں بلکہ پوری مکمل ہے۔مومن کی شکل کے ساتھ توازن کا بڑا گہرا تعلق ہے بعض خوبیوں میں بہت آگے بڑھ جانا اچھی بات ہے لیکن یہ مطلب نہیں کہ بعض دوسری خوبیوں کا خون چوس کر بعض خوبیوں میں آگے بڑھیں۔ہر انسان کے اپنے اپنے رجحان ہیں اسی طرح امراء اضلاع ہیں میں نے دیکھا ہے کہ ان کے اپنے اپنے رجحان ہیں۔بعضوں کو تبلیغ کا بڑا شوق ہے۔بعضوں کو تربیت کا ملکہ دیا گیا ہے بعضوں کو دوسری بعض خوبیاں عطا فرمائی گئی ہیں۔ان میں وہ نمایاں امتیاز رکھتے ہیں لیکن نمایاں امتیاز کا یہ مطلب اسلامی تاریخ میں بہر حال نہیں کہ باقی چیزوں میں تم منفی ہو جاؤ اور پھر نمایاں امتیاز حاصل کرو۔دنیا کی تاریخ میں بھی نہیں کیونکہ ایسے طالب علم کو فیل کہا جاتا ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک مضمون میں میں فسٹ ڈویژن لی ہے اس لئے مجھ پر کسی قسم کی قدغن نہ لگائی جائے کہ میں پانچ مضامین میں فیل ہو گیا ہوں جو کم سے کم معیار سے نیچے اترتا ہے وہ نا کاموں میں داخل ہو جاتا ہے اس لئے کم سے کم اتنا توازن تو ضرور رکھنا چاہیے کہ کسی جگہ آپ ترقی معکوس نہ دکھائیں، واپسی کی طرف لوٹنے والے نہ ہوں۔پس امید ہے ان چیزوں کی طرف با قاعدہ دانشوری کے ساتھ نظر رکھی جائے گی اور اس کا طریق