خطبات وقف جدید — Page 151
151 حضرت خلیفتہ امسح الثالث Islam must have priority over my personal needs۔Please, therefore,accept the enclosed cheque for sh۔50/- and grant me the opportunity of earning swab۔I may assure youholiness that your children, though young, are as willing to serve Islam as the grown-ups"۔یہ اس بچے کا خط ہے تو اس قسم کی نہایت حسین مثالیں بھی ہیں جو ہمارے بچوں میں پائی جاتی ہیں لیکن بچے کا ذہن اس قسم کے خیالات کا اظہار صرف اس وقت کر سکتا ہے جب وہ یہ دیکھے کہ اس کے ماحول میں ایسی باتیں ہورہی ہیں اگر اس کے ماں باپ کو اسلام کی ضرورت کا خیال ہی نہ ہو اگر اس کے ماں باپ اسلام کی ضرورتوں کے متعلق اپنے گھر میں باتیں ہی نہ کرتے ہوں اگر اس کے ماں باپ اس کا تذکرہ گھر میں نہ کرتے ہوں کہ ہمیں اپنی ضرورتیں چھوڑ دینی چاہئیں اور آج اسلام کی ضرورت کو مقدم رکھنا چاہیئے اگر یہ نہ ہوگھر کا ماحول تو گھر کے بچوں کی تربیت ایسی ہو ہی نہیں سکتی جیسا کہ آپ نے ابھی سنا کہ کس قسم کی تربیت اس بچے کی ہے۔چھوٹا بچہ ہے اور وہ اس قسم کا خط نہیں لکھ سکتا دلی جذبات سے ، جب تک ایک پاک ماحول میں اس کی تربیت نہ ہوئی ہو۔یہ احساس کہ میری ضرورتیں اسلام کی ضرورتوں پر قربان ہو جانی چاہئیں اگر ہر بچہ کے دل میں پیدا ہو جائے تو ہمیں کل کی فکر نہ رہے۔ہم اس یقین سے پُر ہو جائیں کہ جب آئندہ کسی وقت ہمارے بچوں کے کندھوں پر جماعت احمدیہ کا بوجھ پڑے گا وہ اسے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اور اس بوجھ کا حق ادا کرتے ہوئے اس کو ادا کریں گے۔اس خطبہ کے ذریعہ میں اپنے تمام بچوں کو جو احمدی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین اور گارڈ بینز (سر پرستوں ) کو اس طرف توجہ دلا نا چاہتا ہوں کہ اگر آپ یہ پسند کرتے ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہورہی ہیں اسی طرح آپ کی اولا داور نسل پر بھی نازل ہوں تو آپ اپنے بچوں کی تربیت کچھ اس رنگ میں کریں کہ ہر ایک کے دل میں یہ احساس زندہ ہو جائے اور ہمیشہ بیدار رہے کہ ایک عظیم مہم اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے جاری کی ہے احمدیت کی شکل میں اور اب ہمیں اپنا سب کچھ قربان کر کے اس مہم میں حصہ لینا اور اسے کامیاب کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ان انتہائی فضلوں اور رحمتوں کا وارث بننا ہے جن کا وعدہ اس نے ہم سے کیا ہے۔۔۔۔۔روزنامه الفضل ربوه 17 نومبر 1967ء)