خطبات وقف جدید — Page 110
110 حضرت خلیفہ امسح الثالث نے انھیں بہت بلند اور ارفع مقام عطا کیا ہے۔خدا کرے کہ وہ نا صرف ہمیشہ اس بلند مقام پر قائم رہیں بلکہ اس مقام کی رفعتوں میں ہمیشہ اضافہ ہوتا چلا جائے کیونکہ مالی قربانیوں کے لحاظ سے ایک ذمہ داری ہم پر یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ ہم اسلام کی ضرورتوں کی خاطر اور خدا کے نام کو بلند کرنے کے لئے مالی جہاد میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیں اور اس سلسلہ میں مستورات کا ایک بڑا نمایاں حصہ مساجد کے لئے چندہ ہے اور مساجد وہ جگہ ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کیا جاتا ہے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی صدا بلند ہوتی ہے لیکن اس کے علاوہ جو تربیتی ذمہ داری احمدی بہنوں پر عائد ہوتی ہے اس کی طرف ابھی تک پوری توجہ نہیں دی گئی۔شاید اس کا موقع ہی ان کو بہم نہ پہنچایا گیا ہو یا شاید انھوں نے اس طرف توجہ دینا ضروری خیال نہ کیا الله ہو۔لیکن ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ نبی کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ بچے پر دس سال کی عمر میں نماز فرض ہو جاتی ہے لیکن اس فرض کو نماز کی عادت ڈالنے کے لئے اگر اس سے بھی پہلے نہیں تو کم از کم سات سال کی عمر کو جب وہ پہنچے تو اس کو نماز کی طرف متوجہ کرتے رہنا چاہئے۔تا جب نماز فرض ہو تو وہ نماز کا عادی ہو چکا ہو اور نماز سے پیار کرنے لگ چکا ہو اور نماز کی محبت اس کے دل میں گڑ چکی ہو اور وہ ذہنی طور پر اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہو کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتے اس سے دعا ئیں نہیں مانگتے ہمیں اس دنیا میں بھی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی اور اخروی زندگی میں بھی ہم اس کی رضا کو حاصل نہیں کر سکتے۔اسلام میں صرف نماز کو ہی مسلمان مرد اور مسلمان عورت پر فرض نہیں کیا گیا بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فرائض ہیں جن میں سے ایک حصہ مالی قربانیوں اور مالی جہاد کا ہے۔اس لئے جس طرح نماز فرض ہونے سے پہلے بچے کو وہ نماز پڑھائی جاتی ہے کہ جو ابھی اس پر فرض نہیں ہوئی، سات سال کے بچے پر ظہر کی نماز عصر کی نماز مغرب، عشا اور فجر کی نمازیں فرض نہیں۔جب ہم ان کو یہ نماز میں پڑھاتے ہیں تو وہ فرض تو نہیں پڑھ رہے ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ان نمازوں کو ابھی فرض ہی نہیں کیا۔اسی طرح مالی میدان میں بھی بچوں کو اس کی عادت ڈالنی چاہئے تا وہ ان قربانیوں میں جو خدا کی توحید کے قیام اور اشاعت اسلام اور نبی کریم ﷺ کی محبت دلوں میں ڈالنے کے لئے دی جارہی ہیں۔ان میں بچپن ہی میں طوعی اور نفلی طور پر حصہ لینے لگ جائیں۔ہماری جماعت میں جماعتی نظام کے لحاظ سے مالی قربانی بطور فرض اس وقت عائد ہوتی ہے جب کوئی شخص کمانے لگ جاتا ہے یا بلوغت کے بعد جیب خرچ کی شکل میں اس کے پاس کوئی رقم ہوتی ہے۔بعض خاندانوں میں یہ رواج ہے کہ وہ پڑھنے والے بچوں کو جیب خرچ کے طور پر کچھ رقم دیتے ہیں ، اگر وہ بچے ہوش سنبھال چکے ہوتے ہیں یا ذہنی بلوغت کو پہنچ چکے ہوتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مالی قربانی ایک فرض ہے اور اس فرض میں ہمیں بھی حصہ لینا چاہئے۔ہمارے ملک میں اور اسلامی