خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 109 of 682

خطبات وقف جدید — Page 109

109 حضرت خلیفہ المسح الثالث خطاب اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ فرموده 22 /اکتوبر 1966ء صلى الله تشہد ،تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجھے چند دنوں سے بخار کی تکلیف ہے لیکن اس خیال سے کہ ایک طرف خدام واطفال اور دوسری طرف لجنہ اماءاللہ کی بہنیں سفر کی صعوبت اور تکلیف اٹھا کر خدا کے نام پر یہاں جمع ہوئی ہیں مجھے بھی بخار کے باوجود یہاں حاضر ہو کر بعض باتیں اپنی بہنوں کو کہنی چاہئیں اور خدام واطفال کے جلسہ میں چھوٹے بھائیوں اور بچوں کو کچھ کہنا چاہئے۔اطفال کے جلسہ میں تو میں ابھی تک نہیں جا سکا لیکن خدام الاحمدیہ کی افتتاحی تقریب کے وقت میں چلا گیا تھا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ عورت اگر چاہے تو اس طرح بھی اپنی زندگی کے دن گزار سکتی ہے کہ اس کے قدم ہر لحظہ اور ہر گھڑی جنت کی زمین پر رہیں اور اگر وہ یہ نہ چاہے تو ایسی بد قسمت عورت اپنی زندگی کے دن اس طرح بھی گزار سکتی ہے کہ اس کے قدم جہنم کی زمین کے اوپر ساری عمر ر ہیں۔یہ بھی ایک معنی ہیں اس حدیث کے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ماؤں کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔اسی سے یہ استدلال بھی ہوتا ہے کہ ماؤں کے پاؤں کے نیچے جہنم بھی ہے۔اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے جہاں ایک طرف تربیت اولاد کی طرف بڑے حسین پیرایہ میں ہمیں متوجہ کیا ہے وہاں دوسری طرف ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ اگر تم امن اور سکون کی زندگی حاصل کرنا چاہتی ہو۔اگر تمہاری یہ خواہش ہے کہ تمہاری اولاد تمہارے لئے خوشی کا موجب بنے وہ تمہاری آنکھ کی ٹھنڈک ہو ، وہ تمہارے دل کی راحت اور سکون ہو اور دوسری طرف وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ذریت طیبہ بھی ہو تو اس کے لئے ضروری ہے تم ان احکام کی روشنی میں جو اسلام نے قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی کے ہرلمحہ میں ہمارے سامنے پیش کئے ہیں، عمل کرو۔لجنہ اماءاللہ کا قیام اس غرض سے ہے کہ تا احمدی مستورات اور احمدی بہنیں اپنی زندگی منظم ہو کر اس طرح گزاریں کہ ان کے قدم ہمیشہ جنت کی زمین کو چھونے والے ہوں اور جہنم کی زمین اور جہنم کی آگ اور اس کی تپش اور اس کی تکالیف کا جھونکا تک بھی ان تک نہ پہنچنے پائے۔میں آج بوجہ اپنی بیماری اور ضعف کے زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا تاہم میں سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض ضروری باتیں یہاں بیان کرنی چاہئیں۔جہاں تک مالی قربانیوں کا تعلق ہے احمدی بہنیں اس میں بہت تربیت یافتہ ہیں اور اس میدان میں اللہ تعالیٰ