خطبات وقف جدید — Page 97
97 حضرت خلیفہ امسح الثالث وقف جدید کے سال نہم کے آغاز پر پیغام فرمودہ 4 جنوری 1966ء) سیدنا حضرت مصلح موعود نے خدائی تحریک کے ماتحت 27 دسمبر 1957ء کو وقف جدید کے آغاز کا اعلان فرمایا اور پھر 3 جنوری کو خطبہ جمعہ میں وقف جدید کی ضرورت اور جماعت کی تربیت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: اگر وہ ( یعنی جماعت ) ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا۔یہاں تک کہ پنجاب کا کوئی گوشہ اور کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں رشد و اصلاح کی کوئی شاخ نہ ہو۔الفضل 11 جنوری 1958ء) وقف جدید ابھی آٹھ سالہ بچہ ہی ہے مگر اس قلیل عرصہ میں بھی بہت بابرکت تحریک ثابت ہوئی ہے۔وقف جدید کے ماتحت جہاں جہاں بھی کام شروع کیا گیا ہے بہت مفید نتائج نکلے ہیں لیکن بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جہاں کام کرنا ابھی باقی ہے جس کے لئے مخلصانہ اور دعاؤں سے بھر پور جدو جہد کی ضرورت ہے۔پس اس اعلان کے ذریعہ مخلصین جماعت سے درخواست ہے کہ وہ سیدنا حضرت مصلح موعود کی جاری کردہ اس مبارک تحریک پر اس نئے سال میں جو یکم جنوری سے شروع ہو چکا ہے ایک نئے جوش اور مخلصانہ عزم کے ساتھ لبیک کہیں۔وقف جدید کے کام کو مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں حصوں میں وسعت دینے کی ضرورت ہے جس کے لئے پہلے سے زیادہ آمد چاہیے اور زیادہ تعداد میں مخلص واقفین چاہئیں۔وقف جدید کے چندہ کے متعلق دوست یا درکھیں کہ چھ روپے سالانہ اس چندہ کی انتہائی حد نہیں ہے۔اس لئے دوست حسب توفیق وقف جدید کی امداد کریں۔جس دوست کو 12 روپے سالانہ دینے کی توفیق ہو وہ 12 روپے سالانہ دے اور جس دوست کو خدا نے 12 صد روپے دینے کی توفیق دی ہو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے 12 صد روپیہ دے۔خاکسار نے اپنے حالات کے مطابق چھ صد روپے کا اپنی طرف سے اور چار صد روپے کا حضرت مصلح موعود کی طرف سے وعدہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ادائیگی کی تو فیق عطا فرمائے۔ا