خطبات وقف جدید — Page 94
94 حضرت علایقت اسیح الثالث میں سے ہر ایک کی طبیعت ، عقل اور زبان کے مطابق ہمیں ان کو اسلام کا پیغام سمجھانا اور اسلام سکھانا ہے۔خدا کہتا ہے ساری دنیا کے سارے ملکوں میں جا کر ایک روحانی انقلاب عظیم برپا کر دو۔اس کے لئے تدابیر سوچنا منصوبے بنانا ان کو عملی جامہ پہنانے کے وسائل تلاش کرنا ہمارا کام ہے۔اتنا بڑا کام اتنی چھوٹی سی جماعت پر ڈال دیا گیا ہے۔یہ کام ہوگا اور ضرور ہو گا۔یہ خدا کا وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدے کو پورا کرے گا اور ضرور کرے گا لیکن وہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ جس حد تک ہمارے بس میں ہے ہم یہ کام انجام دیں اور پھر اسی سے کہیں کہ اے خدا ! اپنی طاقت اور بساط کے مطابق ہم نے اپنا سب کچھ تیرے قدموں میں لا ڈالا ہے اب تو ہماری مدد کر اور اس کام کو خود انجام دے کر ہمارے بار کو ہلکا کر دے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو انجمن پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ جو کام خلیفہ وقت کر سکتا ہے وہ انجمن نہیں کر سکتی اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ جماعت نے انجمن کی آواز پر کما حقہ لبیک نہیں کہا لیکن جب خلیفہ نے جماعت کو قربانیوں کے لئے پکارا تو جماعت کے افراد نے اپنا سب کچھ لا حاضر کر دیا۔اب اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صدرانجمن کچھ نہ کرے بہر حال جو کچھ انجمن کے بس میں ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے اور پھر بقیہ کام کو جو اس کی طاقت سے باہر ہو خدا پر چھوڑ دے۔وہ اس حال میں کہ انجمن نے اپنی طاقت کے مطابق کام کرنے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔اصل کام کو خودسرانجام دے دے گا۔اسی طرح احباب کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں انجمن کے چندوں کا بقایا ۳۰لاکھ روپے ہے۔اگر احباب یہ کل بقایا ادا کر دیں تو انجمن کا کام کہیں سے کہیں جا پہنچتا ہے تحریک جدید اور اس کے قیام کی غرض صدر انجمن کے علاوہ ہمارا دوسرا برا تخلیمی ادارہ تحریک جدید " ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اسے 1934ء میں شروع کیا تھا۔اس سے بڑی غرض یہ تھی کہ دنیا کے دور دراز ممالک میں اشاعتِ اسلام کا بندو بست کیا جائے۔چنانچہ اس تحریک کے ذریعہ ایک بڑی حد تک یہ غرض پوری ہوئی۔آج خدا کے فضل سے بعض ایسے ملک بھی ہیں جن کے چندہ دہندگان کی تعداد پاکستان کے چندہ دہندگان کے قریب قریب پہنچ رہی ہے۔افریقہ میں خاص طور پر بڑی ترقی ہوئی ہے۔بڑا ہی اخلاص رکھنے والے، دعائیں کرنے والے اور قربانیاں کرنے والے لوگ ہیں جو وہاں جماعت میں داخل ہیں اور داخل ہورہے ہیں۔یہ روحانی انقلاب ہے جو تحریک جدید کے ذریعہ رونما ہوا ہے۔دلوں کو فتح کرنے کے لئے تحریک جدید کو قائم کیا گیا تھا یہ غرض ابھی ایک حد تک ہی پوری ہوئی ہے۔دنیا صداقت کی پیاسی ہے۔ان کی پیاس