خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد ۹ 731 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء معیار کے مطابق ہمیں اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف ہو جانا چاہئے تھا۔مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم دیکھتے تو ہولیکن تم سمجھتے نہیں ہو۔یہ بڑا دلچسپ مضمون ہے اگر چہ مجھے اتنا وقت نہیں ملتا کہ میں اس قسم کی فلمیں سب دیکھ سکوں۔بعض دیکھ لیتا ہوں اور بعض کے متعلق ہمارے عبدالباقی ارشد صاحب کا بیٹا نبیل ہے اُس کو میں کہہ دیتا ہوں وہ میرے لئے تیار کر لیتا ہے۔ریکارڈ کر کے پھر مجھے بعد میں بھجوا دیتا ہے اور بہت سی میں نے ربوہ اس غرض سے بھی بھجوائیں کہ وہاں کی نئی نسلوں میں وہ فلمی گانوں کے شوق اور بیہودہ فلمیں دیکھنے کے شوق پیدا ہورہے ہیں۔وہ یہ کچھ دیکھیں جن کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے، جن کے متعلق توجہ دلائی گئی ہے کہ ان چیزوں کو دیکھو، ان پر غور کرو اور پھر تمہیں خدا تعالیٰ سے محبت پیدا کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کرنی پڑے گی از خود تمہارے دل میں خدا کی محبت موجیں مارنے لگے گی اور بے اختیار ذکر میں اُتر جاؤ گے اور تسبیح از خود، خودرو چشموں کی طرح تمہارے دل سے پھوٹنے لگے گی مگر چند بھجوائی ہوں گی مگر بہت سی ایسی ہیں میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ اور بھی اکٹھی کر کے وہاں بھی بھجوائی جائیں اور باقی افریقہ وغیرہ کے ممالک میں بھی ایسی فلمیں بھجوائی جانی چاہئیں اور بچپن ہی سے بچوں کو دکھا کر اُن کے مضامین سے اُن کو شناسائی کروانی چاہئے۔اب میں آپ کے سامنے مثالیں رکھتا ہوں کہ کس طرح یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی طور پر صلاحیتیں عطا کیا گیا ہے اور نہایت ہی اعلی طریق پر یہ ان مضامین کو ہم سے روشناس کرواتا ہے جبکہ کسی اور سائنسدان کو میں نے اس حکمت اور عقل اور گہرائی کے ساتھ ایسی فلمیں بناتے ہوئے نہیں دیکھا۔ایک مضمون ہے آپس میں جانور ایک دوسرے سے کس طرح اپنے مطالب بیان کرتے ہیں، کس طرح ایک دوسرے سے رابطے پیدا کرتے ہیں۔اس ضمن میں اُس نے مختلف ذرائع کو خصوصیت سے اختیار کیا اور پھر ایک ایک ذریعے سے تعلق رکھنے والے مختلف جانوروں کی مثالیں پیش کر کے یہ مضمون کھول کر سامنے رکھا اُس وقت صاف دکھائی دینے لگتا ہے کہ ایک حیرت انگیز خلاق عظیم ہے جس نے با قاعدہ ایک نظام کے تابع یہ حیرت انگیز کائنات پیدا فرمائی ہے ی اتفاقات کا حادثہ نہیں ہے۔چنانچہ مثال کے طور پر روشنی کے ذریعے جانور ایک دوسرے سے رابطے پیدا کرتے ہیں۔وہ دکھاتا ہے کہ کس طرح جگنو جو چمکتے ہیں، ہم لوگ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں بچے بھی