خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 506
خطبات طاہر جلد ۹ 506 خطبه جمعه ۳۱ راگست ۱۹۹۰ء شروع ہو گئے۔نمازوں کے عادی بن گئے جماعت کے تعلق میں آگے بڑھ گئے اور چندوں اور قربانیوں میں ماشاء اللہ غیر معمولی نمونے دکھانے لگے۔ایسے لوگوں کے حال پر جب میں نظر ڈالتا الله ہوں تو مجھے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد یاد آجاتا ہے کہ جس کی ہجرت اللہ کی خاطر اللہ کی طرف ہوگی وہ ضرور خدا ہی کو پائے گا اور اس کی یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی۔چنانچہ جو عظیم انقلاب برپا ہوا ہے وہ انقلاب جو پاکستان سے آنے والوں میں کثرت کے ساتھ بر پا ہوا ہے جس کے نمونے ظاہر وباہر ہیں، یہ در حقیقت حضرت رسول اکرم ﷺ کی اس خوشخبری کے نتیجے میں ہی ہے اور ہم اس کے نیک اثرات دیکھ رہے ہیں لیکن یہ جو معاملہ ہے کہ انسان نیتوں کی وجہ سے اپنے اعمال پر غالب آجائے۔یہ ایک دو دن کا معاملہ نہیں ہے یہ ایک لمبا اور محنت طلب سفر ہے۔نیت اگر اچھی ہو اور انسان کے اعمال میں بدی کا غلبہ ہو تو نیت کو اعمال پر غالب آنے کے لئے ایک لمبا وقت درکار ہوا کرتا ہے۔اس کے لئے لمبی توجہ کے ساتھ محنت کرنی پڑتی ہے کیونکہ بد اعمالیاں اتنی آسانی سے انسان کا پیچھا نہیں چھوڑا کرتیں۔بعض اس قسم کے ایسے اعمال ہیں جن کی مثال آنحضرت ﷺ کو اس طرح دکھائی گئی کہ جہنم میں ایک شخص آگ کے تنور میں پڑتا ہے پھر وہ باہر نکلتا ہے اور پھر نجات پانے کی بجائے دوبارہ تنور میں داخل ہو جاتا ہے پھر وہ باہر نکلتا ہے پھر دوبارہ داخل ہو جاتا ہے اور اس نظارے کا یہ مفہوم آنحضرت ﷺ کو بتلایا گیا کہ بعض شہوانی غلبے ایسے ہیں جو انسان کو اسی حالت میں مبتلا رکھتے ہیں۔رات پی زمزم پہ ئے اور صبح دم دھوئے دھبے جامہ احرام کے (دیوان غالب صفحه: ۲۸۱) ہر رات یہی ہوتی ہے اور ہر صبح یہی ہوتا ہے کہ بعض لوگ نیت کرتے ہیں بدیوں سے نکلنے کی اور یہ ان کی مثال ہے ورنہ وہ لوگ جو بدیوں سے نکلنے کی نیت ہی نہیں کرتے وہ تو ہمیشہ تنور میں رہتے ہیں۔یہ نظارہ ان لوگوں کا دکھایا گیا ہے جو بدیوں سے نکلنے کی نیت کرتے ہیں جب ان کی خواہشات اطمینان پا جاتی ہیں اور جب خواہشات جوش مارتی ہیں تو دوبارہ پھر اس تنور میں جاپڑتے ہیں اس نظارے میں انسانی نفسیات کا ایک بہت گہرا پہلو بھی دکھلایا گیا ہے اور وہ یہ پہلو ہے کہ اگر کوئی شخص نیک نیتی سے اپنے اعمال میں تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہو تو جب اس کو بدی کے نتیجے میں تسکین