خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد ۹ 24 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء وقت پھر یہ خیال ہوتا ہے کہ اسباب کو کلیہ ترک کر دیا جائے اور خالصہ دعا پر انحصار کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں۔ان میں سے ایک مثال کے طور پر آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ جب ایک بیماری نے ایسی شدت اختیار کی اور ایسی ضد کے ساتھ چمٹ گئی کہ ہر قسم کی دوائیں ناکام رہیں اور جس تسکین کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدمت دین کے لئے ضرورت تھی وہ میسر نہیں آرہی تھی۔کوئی مضمون لکھنا ہے تو شدید تکلیف کی وجہ سے اس طرف توجہ مائل نہیں ہو رہی اس وقت آپ نے ہر دوسرے ذریعے کو ترک کرتے ہوئے خالصہ دعا پر انحصار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میں اب صرف تجھ سے مانگتا ہوں اور معاً اس بیماری کے ازالے کے اسباب اس طرح پیدا ہوئے جیسے غیب سے پیدا ہوتے ہیں اور اس کا کوئی ظاہری ذریعہ نظر نہیں آتا۔ایسے بعض تجارب مجھے خلافت سے پہلے بھی ہوئے اور اب بھی بعض دفعہ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ جب اسباب کو اختیار کرنے کا یا وقت نہیں ہوا کرتا یا انسان ویسے ہی اسباب اختیار کرتے تنگ آچکا ہوتا ہے اور آدمی سمجھتا ہے اب ان میں کچھ نہیں ہے۔جیسے کہا جاتا ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں رہا اب ان سے کسی فیض کی امید بے کار ہے۔گزشتہ ہفتے کے اندر کچھ ایسی تکلیف دہ خبریں، خصوصیت کے ساتھ دو ایسے اہم خطرات کی نشاندہی ہوئی جن کا تعلق پاکستان سے تھا اور اگر چہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہوا ہے، ایک عاجزانہ رنگ میں ہم دعا کے ساتھ اسباب کو ضرور اختیار کرتے ہیں، میں عموماً ایسے مواقع پر ساری جماعت کو مطلع کرتا رہا ہوں اور بعض کوششوں کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں مگر ان دو مواقع پر خدا کی نقد ی تھی شاید کہ دل اسباب سے اتر گیا اور اچانک دل اسباب کی پیروی سے بیزار ہو گیا۔تب میں نے خدا سے عاجزانہ دعا کی کہ اب تو مجھے معاف فرما لیکن میں اسباب کو اختیار نہیں کروں گا اب خالصیۂ تجھ سے امید ہے اور تجھ سے ہی دعا کرتا ہوں ، اپنے فضل سے دعاؤں کے ذریعے اسباب پیدا فرمادے اور ان حالات کو بدل دے۔چنانچہ حیرت انگیز طور پر خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور قطعی طور پر کوئی دنیاوی سبب اختیار کئے بغیر ایسے حیرت انگیز رنگ میں وہ تکلیفوں کا خوف ٹل گیا بلکہ وہ تکلیفیں جو خوف سے آگے نکل کر عملی شکل میں ظاہر ہو چکی تھیں ان کے شر سے جماعت کے احباب محفوظ رہے اور ایسی اس کے نتیجے میں دل کو خدا تعالیٰ کی طرف سے تسکین نصیب ہوئی کہ جس کی مثال دنیا میں شاذ ہی ملتی ہے۔کل بھی