خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد ۹ 23 23 خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء کائنات اب لازم ہے کہ میرے تابع چلے۔مومن کے تابع وہ کائنات چلائی جاتی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن دعا کی وجہ سے اور خدا سے تعلق کی وجہ سے اسباب سے مستغنی ہونے کی وجہ سے نہیں۔پس جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان چیزوں سے بالا ہو چکے ہیں اور اب ہمیں ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت نہیں وہ ویسے ہی جاہل اور مشرک ہیں جیسے وہ لوگ جو دعا کی احتیاج سے بے خبر ہیں، دعا کی ضرورت سے بے خبر ہیں، کیونکہ خدا تعالیٰ کی کائنات میں ، اس کی تخلیقات میں کسی ایک حصے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔وہ مالک ہے اور مالک کل ہے اس لئے جیسے روحانی ذرائع اس کی ملکیت ہیں اسی طرح جسمانی ذرائع بھی اسی کی ملکیت ہیں اور دونوں پر انحصار اس رنگ میں کرنا کہ بیک وقت ہوتے ہوئے بھی دعا کو اولیت ہو اور اپنے ایمان اور اپنے یقین میں اصل انحصار دعا پر ہو۔یہ ہے وہ مومنانہ شان جس کی قرآن کریم ہمیں تعلیم دیتا ہے اور انبیاء کی مثالیں پیش کرتے ہوئے مختلف واقعات بیان کرتے ہوئے ہمارے سامنے یہ مضمون کھولتا چلا جاتا ہے کہ دعا کو اولیت ہے مگر اس کے ساتھ ہی اسباب کا اختیار کرنا لازمی ہے۔یہاں تک کہ خدا کا کوئی برگزیدہ نبی بھی اسباب کی پیروی سے مستغنی قرار نہیں دیا گیا اور نمونے کے طور پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو بھی عظیم الشان خوشخبریوں کے باوجود اسباب سے استفادہ کرتے ہوئے دکھایا گیا اور کسی ایک موقعہ پر بھی تاریخی لحاظ سے یہ بات نظر نہیں آتی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہو کہ مجھے اسباب کی ضرورت نہیں۔ایسے مواقع ممکن ہے بارہا پیش آئے ہوں اور میرا ایمان ہے کہ آئے ہوں گے کہ جب حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے یہ سمجھا ہو گا کہ اسباب کی پیروی کا وقت نہیں ہے۔اسباب کی پیروی کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی اور اس وقت کلیۂ انحصار دعا پر ہی کیا ہوگا۔ایسے مواقع کی تفاصیل ممکن ہے تاریخ میں تلاش کرنے سے مل بھی جائیں لیکن جہاں تک میرا علم ہے ایسے واقعات اس طرح بیان نہیں ہوئے کہ گویا آنحضرت ﷺ نے خود اس بات کو ظاہر فرمایا ہو کہ فلاں موقعہ پر میں نے اسباب کو اختیار کرنے سے صلى الله اجتناب کیا یہ یقین کرتے ہوئے کہ یہ وقت صرف دعا کا ہے اور اسباب کا نہیں لیکن میں اس لئے یہ اندازہ کر رہا ہوں کہ روز مرہ کی مومن کی زندگی میں بھی ایسے تجربات آتے ہیں کہ جب دعا کے سوا اور کوئی چارہ ہوتا ہی نہیں اور اسباب اگر دکھائی بھی دیں تو بالکل بے حقیقت اور بے معنی اور بے نتیجہ نظر آتے ہیں یا اسباب کی پیروی سے انسان عاجز آچکا ہوتا ہے اور کوئی اور راہ باقی نظر نہیں آتی۔اس