خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 756
خطبات طاہر جلد ۹ 756 خطبه جمعه ۱۴ر دسمبر ۱۹۹۰ء کو عطا ہوئے اور حواسِ خمسہ کے مضامین پر اگر انسان غور کرتا ہے تو سورہ فاتحہ میں اس کو بہت ہی خوبصورت رنگ بھرتے ہوئے دکھائی دیں گے اور خدا کی حمد اُس کے اندر اس غور و خوض کے بعد کیفیت پیدا کرے گی یا کیفیتیں پیدا کرے گی اور انہیں کیفیتوں کا نام نماز ہے۔ان ہی کیفیتوں کا نام عبادت ہے۔اس عبادت کے بعد جب آپ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتے ہیں تو بلا تر ودیقین کے ساتھ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا سے پھر ضرور مدد ملے گی لیکن دوسرے دروازے بند کرنے پڑتے ہیں۔ان معنوں میں بند کرنے پڑتے ہیں کہ آخری یقین بلا شرکت غیرے یہی رہتا ہے کہ صرف ایک ذات ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جب آپ واپس خدا تعالیٰ کی اُن چار صفات کی طرف واپس جاتے ہیں جن کا سورۃ فاتحہ میں ذکر ہے تو تعجب پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا کہ إيَّاكَ نَعْبُدُ کہو اور یہی چار صفات ہیں جو بنیادی طور پر خدا کا تعارف کروانے کے لئے کافی ہیں لیکن ان میں بہت سی صفات موجود ہی نہیں ہیں۔ہم جب کہہ دیتے ہیں کہ ہم صرف تیری عبادت کریں گے اور صرف تجھ سے ہی مانگیں گے اگر ہماری ضرورتیں اور ہوں اور زائد ہوں تو یہ عہد تو ہمارے لئے موت کا پیغام بن جائے گا۔آپ ایک محدود طاقت والے انسان سے یہ رشتہ باندھ بیٹھیں جس کی طاقتیں بھی محدود ہیں، جس کی پہنچ محدود ہے۔جو ہمیشہ رہ بھی نہیں سکتا اُس سے یہ عہد کر بیٹھیں کہ میں جو کچھ مانگوں گا تجھ سے ہی مانگوں گا تو جب اس کی ضرورت دینے والے کی طاقت سے باہر ہوگی وہیں وہ مارا گیا۔ایک دفعہ ایک عباسی وزیر نے جو عباسی خلیفہ کے وزیر تھے کسی کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا تو اس نے احسان کا شکریہ اس رنگ میں ادا کیا کہ اس سے تحریری معاہدہ کیا کہ اے وزیر! میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ آئندہ میں تیرے دروازے کے سوا کسی دروازے کی طرف نہیں دیکھوں گا اور تیرے سوا کسی سے نہیں مانگوں گا لیکن کچھ عرصے کے بعد نہ وہ وزیر رہا نہ وہ در رہا اور یہ وعدہ از خود ہی جھوٹا ثابت ہو گیا۔پس جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) کہتے ہیں تو غور طلب بات یہ ہے کہ آیا یہ حکمت کی بات تھی بھی کہ نہیں۔کہیں ہم ایسا عہد تو نہیں کر بیٹھے جس کے نتیجے میں بعض ہماری ضرورتیں خدا کی ذات سے باہر رہ جائیں گی اور جب ذات کی طرف واپس