خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد ۹ 62 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء ہونے کے باوجود نہیں سمجھ سکے مگر افسوس یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جب روشنی عطا کی تو اب علماء اس روشنی کو لینے سے انکار کر رہے ہیں اور اس طرف پیٹھ پھیر کر کھڑے ہو گئے ہیں اور ان اندھیروں کو قبول کر رہے ہیں جو نعوذ بالله من ذلك قرآن کریم کی طرف منسوب کئے جارہے ہیں۔اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان اس کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ پانی اور شیشے کا جو تعلق ہے اگر شیشہ کثیف ہو تو شیشہ دکھائی دے گا پانی دکھائی نہیں دے گا۔اگر شیشہ شفاف ہو تو پانی ہی دکھائی دے گا اور بعض دفعہ لوگ دھوکے سے شیشے ہی کو پانی سمجھ لیتے ہیں یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔پس خدا سے تعلق میں دو طرح کے مضامین ممکن ہیں۔بعض دفعہ خداوالے لوگ بنتے ہیں لیکن وہ اپنے وجود کو دکھاتے ہیں اور خدا کے وجود کو نہیں دکھاتے وہ بھی شرک پیدا کر دیتے ہیں۔اور بعض دفعہ لوگ خدا والوں کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ گویا وہ خدا ہیں حالانکہ وہ خدا نہیں ہوا کرتے۔انہوں نے تو اپنا نفس مٹادیا ہوتا ہے اور ایسے شفاف بن جاتے ہیں کہ ان کے پار خدا دکھائی دیتا ہے۔پس حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فر مایا کہ تو خدا تو نہیں تھا۔مگر تیری ذات میں ہم نے خدا کو دیکھا ہے یہی وہ مضمون ہے جو حضرت سلیمان ملکہ سبا پر روشن فرمانا چاہتے تھے آپ اس کو سمجھانا چاہتے تھے کہ تم پہلے ایک قسم کے دھوکے میں مبتلا رہی ہواب خطرہ ہے کہ دوسرے قسم کے دھوکے میں مبتلا نہ ہو جاؤ۔پہلے تم نے کثیف انسانوں کو یا بتوں کو خدا سمجھ لیا حالانکہ وہ خدا کی روشنی کو تم تک پہنچنے ہی نہیں دے رہے تھے۔وہ خدا اور تمہارے درمیان حائل وجود تھے ان کو خدا سمجھنا ایک کھلا کھلا شرک تھا اور جہالت تھی۔اب تم ایک ایسے شخص کے دربار میں آئی ہو جس نے اپنے وجود کوکلیۂ مٹا دیا ہے اور اس کی ذات میں تمہیں خدا دکھائی دے رہا ہے لیکن وہ خدا نہیں ہے وہ خدا کا ایک عاجز بندہ ہے جس نے اپنے نفس کو کلیڈ مٹا دیا ہے۔پس جس طرح تم شیشے کو دیکھ کر دھو کہ کھا گئیں اور اپنی پنڈلیوں سے اپنا کپڑا اٹھا لیا، اس طرح یاد رکھو کہ میرے وجود میں تمہیں جو الہی صفات دکھائی دیں گی ، وہ میری نہیں ہیں وہ خدا کی ہیں اور میں خدا نہیں ہوں بلکہ خدا نما ہوں۔وہ بہت ہی ذہین عورت تھی جس نے اس مفہوم کو پوری طرح سمجھ لیا اور اچانک اس پر یہ بات روشن ہو گئی کہ میں کس اسلام کو لئے پھرتی تھی۔میں کیا کہہ رہی تھی کہ