خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد ۹ 61 خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۰ء اس نے کہا! او ہو، ہو میں کس کو اسلام سمجھا کرتی تھی اس کی تو کوئی حیثیت نہیں تھی۔وہ اسلام ہے جو سلیمان کا اسلام ہے مَعَ سُلیمن سے مراد یہ ہے کہ مجھے سلیمان کی روحانی معیت نصیب ہو۔اے رب ! میں وہ اسلام چاہتی ہوں جو سلیمان کو عطا ہوا ہے۔اب وہ شیشوں کے ٹکڑوں پر چلانے میں جو ایک پیغام ہے وہ کیا ہے؟ بعض علماء بدقسمتی سے پرانے قصوں اور کہانیوں کو پڑھ کر ایک ایسا لغو تصور پیش کرتے ہیں کہ عقل ماتم کرنے لگ جاتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بے شمار احسانات میں سے یہ ایک بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے جماعت کو قرآن کریم کا عرفان بخشا ہے اور قرآن کریم پر غور کرنے کا طریق عطا فر مایا ہے ورنہ آپ پرانی تفاسیر کو اٹھا کر دیکھیں وہاں عجیب و غریب لغو قصے آپ کو دکھائی دیں گے۔بعض مفسرین نے تو لکھا ہے کہ حضرت سلیمان اس کی پنڈلیاں دیکھنا چاہتے تھے اور وجہ کیا تھی کہ لوگوں نے مشہور کیا ہوا تھا اس کی پنڈلیوں پر بڑے بال ہیں اور آپ دیکھنا چاہتے تھے کہ واقعی بال ہیں کہ نہیں۔انالله وان اليه راجعون اللہ تعالیٰ کا وہ نبی جو صاحب حکمت ابنیاء میں ایک خاص مقام اور درجہ رکھتا ہے اس نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ایک شیشے کا محل بنوایا بہت چمکدار اس کا فرش پانی کے اوپر بنایا تا کہ اس کو دھوکہ لگے کہ پانی ہے اور پھر اس نے اپنا کپڑا اٹھا دیا اور اس نے پنڈلیاں دیکھ لیں۔انا لله وانا اليه راجعون۔اس قسم کی تفاسیر ہیں جو عامتہ المسلمین کو روشنیاں دے رہی ہیں یعنی قرآن کریم کی روشنی کے درمیان میں حائل ہوگئی ہیں اور قرآن کی روشنی وہ نہیں پاتے بلکہ وہ شخص جو بیچ میں حائل ہے اس کے ذہن کے صرف اندھیرے دیکھ رہے ہیں۔ایک اور مضمون یہ بیان کیا گیا تفسیر میں کہ حضرت سلیمان کو بتایا گیا تھا کہ یہ ڈائن ہے اور ڈائن کے متعلق مشہور تھا کہ اس کے پاؤں الٹے ہوتے ہیں یعنی ٹخنے آگے اور پنجے پیچھے کی طرف تو حضرت سلیمان یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ حقیقت میں ڈائن ہے کہ نہیں جب اس نے کپڑا اٹھایا اپنی پنڈلیوں سے تو پورا پاؤں نظر آگیا کہ وہ سیدھا سادا پاؤں ہے تو پھر آپ نے اس خیال سے توبہ کر لی۔حالانکہ تو بہ کرنے کی خاطر نہیں تھا۔تو بہ کروانے کی خاطر یہ سارا قصہ بنایا گیا ہے حضرت سلیمان تو اس کی تو بہ کروانا چاہتے تھے نہ کہ اپنے خیالات سے تو بہ کرنے کی خاطر آپ نے یہ سارا قصہ شروع کیا۔اتنا بڑا ایک جھگڑا شروع کر دیا کہ ایک محل بنائیں اس کے شیشے کے فرش ہوں نیچے پانی بہتا ہو۔اتنی معمولی عقل کی بات بعض نیک لوگ