خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 519

خطبات طاہر جلده 519 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۹۰ء بھی کہہ دیتے ہیں کہ جی! آپ کے سامنے ہم جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے یقین کریں کہ جو جھوٹ بول رہے ہیں وہ بیچ ہے۔جھوٹ اتنی گہرائی کے ساتھ ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے، راسخ ہو چکا ہے، گہری جڑیں پکڑ چکا ہے کہ ایک دو دفعہ ہلانے سے جھوٹ کا یہ پودا اکھیڑا نہیں جائے گا بارہا مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔جس طرح آپ اکثر زمیندار ہیں، آپ جانتے ہیں کہ جب کھیتوں میں غیر پودے داخل ہو جائیں اور گہری جڑیں پکڑ جائیں تو ایک یا دو مرتبہ کی کلائی ان کو اکھیڑنے کے لئے کافی نہیں ہوا کرتی۔آپ ایک دفعہ محنت کرتے ہیں کلائی کرتے ہیں پھر دوسری دفعہ کرتے ہیں پھر تیسری دفعہ کرتے ہیں اور بظاہر کھیت خالی ہو جاتا ہے لیکن جڑیں موجود ہوتی ہیں، اس لئے چوتھی دفعہ پھر ضرورت پیش آ جاتی ہے۔بعض دفعہ چھ چھ مہینے ، سال سال محنت کرنی پڑتی ہے اور اگر ماحول میں وہ جڑی بوٹیاں موجودر ہیں تو ایک زمیندار خواہ کتناہی مفتی کیوں نہ ہو کتنی احتیاط کے ساتھ بھی اپنے کھیت کوان غلط بوٹیوں سے پاک کرنے والا ہو پھر بھی بار بار ماحول سے اڑ کر اُس کے کھیتوں میں یہ غلط جڑی بوٹیاں جڑ پکڑتی رہتی ہیں۔چنانچہ پاکستان کے احمدیوں کا بھی یہی حال ہے۔سالہا سال سے جماعت احمدیہ کے مختلف ادارے، جماعت احمدیہ کی مختلف تنظیمیں کوشش کرتی ہیں اور کرتی چلی جارہی ہیں لیکن ماحول کیونکہ بہت گندا اور بیہودہ ہو چکا ہے اس لئے ہر طرف سے جھوٹ داخل ہوتا چلا جاتا ہے اور بہت بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ان ملکوں میں آنے والے احمدیوں کو وہاں کے مقابل پر ایک فائدہ اور ایک فوقیت حاصل ہے۔یہاں اگر وہ دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جھوٹ کے پودے کو تلف کرنے کی کوشش کریں گے تو چونکہ باہر کے معاشروں میں یعنی مغربی دنیا کے معاشرے میں جھوٹ کی عادت نہیں ہے، بہت اونچے مقامات پر بڑے مقاصد کے لئے یہ جھوٹ بولتے ہیں۔روزمرہ کی شہری زندگی میں جھوٹ ایک شاذ و نادر سی چیز ہے۔پکے ہوئے مجرم جھوٹ بول دیتے ہیں لیکن عام سوسائٹی جھوٹ نہیں بولتی۔وہ واقف ہی نہیں کہ جھوٹ بھی بولا جاتا ہے۔ایسے ماحول میں اگر ایک دفعہ آپ کی صفائی ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس بات کی بھاری توقع رکھی جاسکتی ہے کہ لمبے عرصہ تک آئندہ آنے والی نسلوں تک بھی آپ لوگ جھوٹ سے پاک رہیں گے اس لئے یہاں آ کر پناہ لینی ہے تو خدا کی پناہ لیں اور شیطان سے پناہ لیں۔ہجرت کرنی ہے تو وہ ہجرت کریں جو اللہ