خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 518
خطبات طاہر جلد ۹ 518 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۹۰ء جیسا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مخلصین اور منتقد مین کی جماعت موجود تھی اتنی بڑی تعداد میں تم نسبت کے لحاظ سے نیک رہو گے۔ہاں درمیانے درجے کے نیک لوگوں میں تم بہت بڑی تعداد میں پائے جاؤ گے۔پس یہ پیشگوئی یہ بتانے کے لئے تھی کہ ہم دن بدن اور زیادہ نگران ہوں اور زیادہ توجہ اور کوشش کریں۔اپنی درمیانے درجے کی اکثریت کو اول درجے کی اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور اس ضمن میں سب سے اہم بات سچائی کا قیام ہے اور جھوٹ سے پر ہیز ہے۔جھوٹ کے متعلق میں نے کہا کہ بسا اوقات بہت سے احمدی جب ان کو ضرورت پیش آتی ہے تو جھوٹ بول جاتے ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو یہاں موجود ہیں۔جب انہوں نے جرمنی آنے کے لئے بارڈر کر اس کئے ، جب عدالتوں میں پیش ہوئے ، جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیسے آئے تھے؟ کس طرح داخل ہوئے تھے؟ پاسپورٹ دکھاؤ تو ہر قدم پر ان میں سے بہت سی تعداد ایسی ہے جنہوں نے ضرور جھوٹ بولے ہوں گے کیونکہ عمومی طور پر ملاقات کے دوران جب میں جائزے لیتا ہوں تو مجھے یہ معلوم کر کے سخت شرمندگی ہوتی ہے اور تکلیف پہنچتی ہے کہ اگر چہ میرے سامنے جھوٹ نہیں بولتے اور جھوٹ بول کر اپنے پہلے جھوٹ پر پردہ نہیں ڈالتے لیکن پہلے جھوٹ بولا ہوا ہوتا ہے۔اب یہ ایک مثال ہے جس سے آپ کو جھٹ معلوم ہو جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ میں جھوٹ بولا تو جاتا ہے لیکن دوسروں سے بہر حال بہتر ہیں۔بعض جگہیں مقرر کی ہوئی ہیں کہ وہاں جھوٹ نہیں بولنا اور یہ بھی ہمارے ملک میں رائج ایک ایسا لغو محاورہ ہے کہ جب آپ کسی سے پوچھیں کہ سچ بول رہے ہو تو کہتے ہیں جی! " تواڈے سامنے جھوٹ نہیں بولتا۔بھئی جھوٹ تو خدا کے سامنے بولا جاتا ہے یا نہیں بولا جاتا۔بندوں کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔اگر جھوٹ بولو گے تو جہاں بھی بولو گے خدا کے سامنے بولو گے نہیں بولو گے تو جہاں نہیں بولو گے خدا کی خاطر نہیں بولو گے مگر چونکہ یہ رواج ہے اس لئے کچھ تھوڑی بہت حیاء اور شرم تو بہر حال موجود ہے۔بعض لوگوں کے سامنے آ کر پھر وہ کہتے ہیں ہم آپ کے سامنے سچی بات کر دیتے ہیں اور بعض دفعہ وہاں بھی سچی بات نہیں کر رہے ہوتے۔صرف محاورۃ کہتے ہیں اور کیونکہ ہمارے ملک میں اکثر یہ رواج ہے کیونکہ مجھے اس لئے علم ہے کہ اکثر لوگ وہاں اپنے جھوٹ کو پکا کرنے کے لئے اور بیچ بنا کر دکھانے کے لئے یہ