خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد ۹ 314 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۹۰ء تعجب ہے کہ اتنے واضح مضمون کو اس شان کے ساتھ قرآن اور تاریخ اسلام نے اور اسوہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے کھول کر بیان کر دیا ہو لیکن آج کا ملاں اپنی جہالت میں خدا کا مقام صلى الله حاصل کرنے کی کوشش کرے اور حضور اقدس محمد مصطفی ملے سے بھی مرتبے میں بلند ہونے کا عملاً دعویٰ کر رہا ہو۔آپ کو تو خدا یہ خبر دیتا ہے کہ دلوں میں ایمان نہیں ہے پھر بھی مسلمان کہلانے کی اجازت دے دو اور ملاں اپنے ہاتھ میں یہ خدائی طاقت لے لیتا ہے کہ ایمان کا فیصلہ بھی ہم کریں گے اور اسلام کا فیصلہ بھی ہم کریں گے۔ہمیں اس بات کی قدرت ہے کہ ہم دلوں میں جھانک کر دیکھ سکیں کہ کوئی شخص دل میں ایمان رکھتا ہے یا نہیں رکھتا اور اس بات کی قدرت رکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ فلاں کا دل ایمان سے خالی ہے، ہم اس کو مسلمان کہلانے سے بھی روک دیں۔لیکن یہ ایک ضمنی بات تھی جو میں نے سوچا کہ چلتے ہوئے آپ کو سمجھاتا چلوں کیونکہ ایک بہت لمبی بحث گزر چکی ہے۔مولوی کہتے ہیں کہ احمدیوں کا دل چونکہ ایمان سے خالی ہے اس لئے ہم ان کو مسلمان کہلانے کی اجازت نہیں دیتے۔تو میں نے چاہا کہ آپ کو یہ مضمون کھول کر بیان کر دوں لیکن مقصد یہ نہیں تھا۔اصل مقصد آپ کو یہی سمجھانا ہے کہ اسلام اور ایمان کے اندر کیا رابطے ہیں اس کے نتیجے میں ایک احمدی کے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔پس جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا ، تقویٰ ایک قلبی حالت کا نام ہے اور اسلام ایمان کے نتیجے میں ڈھلنے والے عمل کا نام ہے۔پس ان دونوں کے درمیان رشتہ وہی ہے جس طرح ایمان اور اعمال صالحہ سے ایک تعلق ہے اور اس کا کثرت کے ساتھ قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے اور ایمان اور اعمال صالحہ کو اکٹھا بیان کیا گیا ، اسی طرح کی کیفیت تقویٰ اور اسلام کے درمیان کے رشتے کی پائی جاتی ہے۔تقویٰ ایک ایسی اندرونی حالت کا نام ہے جو ایمان کی طرح دکھائی نہیں دیتی اور ایمان سے الگ حالت ہے۔ایمان پہلی بات ہے تقویٰ بعد کا مضمون ہے اور پھر ایمان کے بعد تقویٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کسی انسان کا اسلام کس نوعیت کا ہے۔انسان جو نہی ایمان لے آئے ، معا وہ کامل نہیں ہو جاتا۔ایمان کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا عرفان رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے اور تقویٰ کا عرفان کے ساتھ تعلق ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے کہ تقویٰ عرفان سے ترقی کرتا ہے خدا تعالیٰ کی ذات لامتناہی ، لا محدود ہے اور اس کی صفات کا کوئی حساب ممکن نہیں۔جتنا