خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 315
خطبات طاہر جلد ۹ 315 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۹۰ء خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا تصور دل پر قائم ہوتا چلا جائے۔جتنا اس کے حسن و احسان پر دل فریفتہ ہوتا چلا جائے اتنا ہی تقویٰ بڑھتا ہے اور اگر چہ بظاہر اسلام وہی رہتا ہے جو پہلے دن تھا لیکن عملاً اس کی کیفیت بدلنے لگتی ہے۔اس مضمون کو آگے بڑھانے سے پہلے میں اسلام کے متعلق کچھ مزید روشنی ڈالتا ہوں پھر آپ ان دونوں روحانی اصطلاحوں کے باہمی تعلق کو زیادہ بہتر سمجھ سکیں گے۔اسلام کے دو معانی ہیں ایک ہے سپردگی اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دینا۔کسی کا ہو جانا۔جیسے انسان محبت میں کسی سے کہتا ہے کہ میں تیرا ہو گیا۔ایک فارسی کا شعر ہے من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری من تو شدم تو من شدی، میں تو ہو گیا تو میں ہو گیا۔من تن شدم تو جاں شدی، میں جسم بن گیا تو جان بن گیا۔تا کہ آئندہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ تو اور ہے اور میں اور ہوں۔یہ اسلام کی اعلیٰ حالت کی تصویر ہے۔جب خدا کے حضور بندہ ایسی عاجزی اختیار کرتا ہے کہ اپنے وجود کو اس کے حضور بچھا دیتا ہے اور واقعتہ قلب سلیم کے ساتھ یہ عہد کرتا ہے اور اس عہد کے نتیجے میں عملاً اپنے وجود کو خدا کے حضور پیش کر دیتا ہے کہ آج سے تو اس میں بسے گا اور کوئی نہیں بسے گا۔تو اس انتہائی سپردگی کی حالت کو اسلام کہا جاتا ہے۔یعنی اسلام کی ترقی یافتہ صورت ، وہ انتہائی صورت جس کی طرف انسان کو اسلام لے جاتا ہے اور پھر اس آخری مقام تک پہنچا دیتا ہے وہ یہی ہے اور اس سے پہلے کی بھی اسلام کی کچھ حالتیں ہیں۔جب انسان زبان سے یہ کہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جس اسلام کا دعویٰ کرنے سے نہ روکنے کا ارشاد فرمایا تھا وہ یہی اسلام ہے یعنی آغاز کا اسلام۔ایک انسان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں اپنے وجود کو خدا کے سپرد کرتا ہوں۔اب کس حد تک اس نے سپرد کیا ہے اس کا فیصلہ تقویٰ نے کرنا ہے۔اگر انسان کے دل میں خدا کا عرفان بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں تقویٰ ترقی کرے گا تو دن بدن اس کے اسلام کی حالت بدلنی شروع ہو جائے گی۔کئی لوگ زبان سے ، واری واری ، جاتے ہیں یعنی وہ بھی سپردگی کا ایک اظہار ہے کہ میں قربان ، میں نشار، میرا سب کچھ تیرا اور جب وقت آتا ہے اس وقت دوڑ جاتے ہیں اس وقت سب کچھ اپنا ہو جاتا ہے۔تو جہاں تک ان کے واری واری جانے کا تعلق ہے اس سے