خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد ۹ 88 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء یہ بات درست نہیں جو واقعات رونما ہورہے ہیں۔ان کے پس منظر میں جو کچھ ابھرنے والا ہے ابھی تک انسان سے پوشیدہ ہے۔اسی لئے بہت سے مفکرین فکر مند بھی ہیں اور پریشان بھی ہیں۔وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کے کیا نتائج نکلیں گے۔ابھی سے انہوں نے ایسے خدشات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے جس سے ان کے ذہنوں میں یہ خطرہ جگہ بناتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ اس اتحاد کے نتیجے میں وہ یورپ دوبارہ ابھر آئے جو ۱۹۱۴ء کا یورپ تھا یا اس سے کچھ پہلے کا اور رفتہ رفتہ ان دونوں جرمنیوں کے اتحاد سے جرمن قوم کی عظمت کا وہ تصور دوبارہ بیدار نہ ہو جائے جس کے نتیجے میں دو دفعہ انسانوں کو بہت ہی ہولناک جنگوں میں دھکیلا گیا۔اس کے نتیجے میں یورپ کے وہ چھوٹے چھوٹے ممالک جو پہلے بھی باقی یورپ کے مقابل پر بے حیثیت تھے نئے خدشات محسوس کر رہے ہیں اور یہ جو سیاسی خدشات ہیں یہ محض آئس برگ کا Tip ہے یعنی Ice Burg جو سمندر میں برف کے بڑے بڑے تو دے تیر رہے ہوتے ہیں ان کو کہا جاتا ہے۔بعض دفعہ وہ پہاڑوں جتنے بڑے ہوتے ہیں۔سطح سے اوپر تھوڑا دکھائی دیتے ہیں لیکن سطح کے نتیجے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔بڑا حجم ان کا سطح کے نیچے پوشیدہ ہوتا ہے۔تو اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ جو تبدیلیاں رونما فرمائیں ان کا بہت تھوڑا سا حصہ دکھائی دے رہا ہے۔آئس برگ کے متعلق تو حساب کی روح سے کہا جا سکتا ہے کہ ۳/ سطح سے باہر ہو جاتا ہے اور ۲/۳ سطح کے نیچے۔لیکن عظیم الشان انقلابات کی جو بنیا د یں ڈالی جاتی ہیں، ان پر عمارت خواہ کتنی بلند تعمیر ہونی ہو، شروع میں بنیا دیں بہت گہری ہوتی ہیں اور سطح پر نظر آنے والا حصہ بہت معمولی ہوتا ہے۔ان تبدیلیوں کے نتیجے میں کئی قسم کی تبدیلیوں کے سلسلے شروع ہونے والے ہیں اقتصادی لحاظ سے کئی قسم کے خطرات تیسری دنیا کو در پیش ہوں گے۔کئی قسم کے خطرات آزاد دنیا کو درپیش ہوں گے اور ترقی یافتہ دنیا کو درپیش ہوں گے۔مشرق اور مغرب کے امتزاج سے یعنی مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کے امتزاج سے بہت سا ایسا صاحب فن مزدور جرمنی کے ہاتھ میں آجائے گا جو Capital کی کمی کی وجہ سے اپنے فن کو دولت میں تبدیل نہیں کر سکتا تھا اور بڑے بڑے صاحب دماغ سائنس دان جن کی سائنس کی کوئی قدر نہیں تھی ان کو ایک ایسا ترقی یافتہ صنعتی ملک ہاتھ آجائے گا جس میں وہ اور اپنے سائنسی جو ہر کو خوب کھل کھل کر دکھا سکیں گے اور بڑی عمدگی کے ساتھ اپنے دماغ کو مغربی جرمنی کی ترقی یافتہ صنعت کے ساتھ ملا کر جسے