خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 86

خطبات طاہر جلد ۹ 86 خطبه جمعه ۹ رفروری ۱۹۹۰ء ہوا کرتی ہیں کہ بعض قوموں کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ تقدیر کے رخ پر چلنے والی ہواؤں کے ساتھ چلتے ہیں اور ان تبدیلیوں کو جن کی پیشگوئیاں کی جاتی ہیں رونما کرنے میں بہت گہرا کردار ادا کرتے ہیں، بہت ٹھوس کردار ادا کرتے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ فتح نمایاں کی کلید ان کو تھمائی جاتی ہے اور ان کے ذریعہ یہ پاک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اس زمانے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ کو ان پاک تبدیلیوں کے لئے ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تقدیر الہی ہے جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس تقدیر کے مطابق تدبیر اختیار کرنا بھی ہمارا کام ہے اور دعاؤں سے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو معاف فرماتے ہوئے ہماری کمزوریوں سے درگزر فرماتے ہوئے ، ہماری نا طاقتی پر رحم کی نظر ڈالتے ہوئے ، ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ یہ عظیم الشان انقلاب جس کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا گیا ہے یہ ہمارے ہی ذریعے رونما ہو۔ دو اڑھائی سال پہلے کی بات ہے جلسہ سالانہ یوں کے پر میری ایک نظم پڑھی گئی تھی جس کا پہلا شعر یہ تھا کہ: دیار مغرب سے جانے والو، دیار مشرق کے باسیوں کو کسی غریب الوطن مسافر کی چاہتوں کا سلام کہنا اس میں دو شعر ایسے بھی تھے جو پیشگوئی کا رنگ رکھتے تھے۔ لیکن الہامی نہیں تھے نیک تمناؤں کا اظہار خدا تعالیٰ کی تائید پر بھروسہ کرتے ہوئے پیشگوئی کے رنگ میں کیا گیا تھا۔ پہلا شعر ان دو اشعار میں سے یہ تھا۔ ے تمہیں مٹانے کا زعم لیکر اٹھے ہیں جو خاک کے بگولے خدا اُڑا دے گا خاک ان کی، کرے گا رسوائے عام کہنا پس جماعت احمدیہ نے یہ دیکھ لیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ہماری توقعات سے بڑھ کر پوری شان اور صفائی کے ساتھ اس نیک تمنا کو جو پیشگوئی کا رنگ رکھتی تھی پورا فرما دیا۔ دوسرا شعر یہ تھا: بساط دنیا الٹ رہی ہے حسین اور پائیدار نقشے جہان نو کے اُبھر رہے ہیں، بدل رہا ہے نظام کہنا کلام طاہر صفحہ: ۲۶