خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد ۹ 76 خطبه جمعه ۲ ر فروری ۱۹۹۰ء کہ مجھے اس حساب کے دیکھنے کی اس وجہ سے ضرورت نہیں ہے کہ مجھے خوف ہو کہ پیسہ نہیں رہے گا۔مجھے یقین ہے اور میرا گزشتہ تجربہ بتاتا ہے کہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ ضرورت ہو اور اللہ تعالیٰ نے مہیا نہ فرما دی ہو لیکن حساب دیکھنا، وہ میرے فرائض میں سے ہے، دیکھوں گا ضرور لیکن اس خوف کی وجہ سے میں نہیں دیکھوں گا۔چنانچہ ان کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔انہوں نے کہا اب مجھے کوئی فکر نہیں رہی اور اس کے چند دن بعد ہی ایک احمدی تاجر کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی منافع عطا فر مایا تو اس نے تقریباً پچاس ہزار پاؤنڈ کا ہدیہ خدا کیلئے بھجوایا اور انہوں نے کہا کہ آج کل ضرورتیں بڑھ رہی ہیں، جہاں چاہیں اسے خرچ کریں۔تو اللہ تعالیٰ بھی پھر ایسی جماعت سے ایسے ہی سلوک فرماتا ہے۔خدا تعالیٰ ایسی جماعت کی جماعتی ضروریات کو کبھی بھی افلاس کا منہ نہیں دیکھا تا کہ غربت کی وجہ سے وہ ضروریات پوری نہ ہو رہی ہوں۔پس وقتی طور پر اگر کبھی غفلت بھی ہو جائے یا آمد میں کمی بھی آجائے تو ڈرنے کی بات نہیں۔معمولی سا ذکر معمولی سی یاد دہانی اللہ تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی نتائج پیدا کر دیتی ہے۔ابھی چند دن ہوئے ان صاحب نے جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔محمد شریف اشرف صاحب نے یہ ذکر کیا تو غالباً انہی دنوں کی رویا دیکھی ہوگی کینیڈا میں ایک صاحب نے جس کی اطلاع مجھے کل ملی یعنی کل ان کا خط ملا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک عجیب رؤیا دیکھی ہے۔میرے ذہن میں اور خیال میں بھی نہیں تھی کہ آپ کچھ عرصے سے اپنی توجہ دوسرے کاموں میں خرچ کر رہے ہیں اور کہہ یہ رہے ہیں کہ جماعت مالی یاد دہانیوں وغیرہ کی باتیں خود کرے یعنی نظام جماعت اور چندوں کی تحریک کے سلسلے میں نظام جماعت از خود کام کرے، میں دوسرے کاموں میں مصروف ہوں اور اس کے نتیجے میں چندے میں کچھ کمی پیدا ہو جاتی ہے اور فکر پیدا ہو جاتی ہے کہ روپیہ کم ہو گیا۔اب یہ کہاں سے آئے گا۔ان کی خواب کا مضمون چونکہ بالکل ہمارے وکیل المال صاحب کی بات سے ملتا تھا۔اس لئے مجھے خیال آیا کہ آج براہ راست یہ یاد دہانی کرا دوں۔یہ بھی درست ہے کہ نظام جماعت کا کام ہے کہ وہ مسلسل بیدار مغزی کے ساتھ تمام جماعت کی حیثیت پر نظر رکھتے ہوئے صاحب حیثیت لوگوں کو ان کی حیثیت کے مطابق ، غرباء کو ان کی حیثیت کے مطابق مالی قربانی پر ابھارتا رہے۔یہ