خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد ۹ 3 خطبہ جمعہ ۵/جنوری ۱۹۹۰ء ہیں۔يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَاب ایسی صورت میں فرمایا کہ ان کے یعنی ان شہد کی مکھیوں کے پیٹ سے ایک ایسی شراب نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں بنی نوع انسان کے لئے بہت بڑی شفاء ہے۔اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ اس بات میں ان لوگوں کے لئے ایک بہت بڑا نشان ہے جو فکر کرتے ہیں۔جو اشکال انھوں نے اٹھا یا وہ یہ تھا کہ قرآن کریم تو شراب کو حرام قرار دیتا ہے اور یہاں پہلی آیت میں نعمت کے طور پر شراب کا ذکر فرمایا ہے۔گویا خدا تعالیٰ اپنی نعمتیں بتا رہا ہے اور فرمایا کہ دیکھو کھجور سے اور انگوروں سے تم شراب بھی بناتے ہو۔تو ایک حرام چیز کا نعمتوں میں کیسا ذکر آ گیا ؟ اس بات کا جواب جب میں ان آیات کے باہمی رابطے اور ان کے مضمون پر روشنی ڈالوں گا تو اس میں خود بخود آ جائے گا۔سب سے پہلی چیز یہ سمجھنے والی ہے کہ یہاں عبرت کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔عبرت میں ایسی نصیحت پکڑنا مراد ہوتی ہے جس سے فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں نقصان پہنچتے ہیں اور جس کے نتیجے میں ان لوگوں کی تاریخ سامنے آجاتی ہے جن کو ان خاص چیزوں سے استفادہ نہ کرنے کے نتیجے میں بڑے بڑے ضرر پہنچ چکے ہوں، بڑے بڑے نقصانات پہنچ چکے ہوں۔مثلاً فرعون کی قوم ایک عبرت کا نشان بن گئی اور دوسری پہلی قومیں جنہوں نے انبیاء کی مخالفت کی اور اس کے نتیجے میں خدا کے عذاب کا نشانہ بنیں۔وہ ساری عبرت کا نشان بن گئیں۔پس عبرت کا مضمون چل رہا ہے اور وہ جگہ جہاں شراب بنانے کا ذکر ہے اس کا بھی عبرت کے مضمون سے تعلق ہے۔نعمتوں کے گنانے کا مضمون نہیں ہے بلکہ عبرت کا مضمون ہے۔در اصل خدا تعالیٰ نے تین مثالوں میں مختلف انسانی حالتیں بیان فرمائی ہیں۔پہلی مثال جانوروں کی ہے۔ایسے جانوروں کی جو چوپائے کہلاتے ہیں اور جن میں دودھ دینے کا ملکہ اللہ تعالیٰ نے ودیعت کر رکھا ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ دودھ پیدا کر یں اور جو پہلی غذاوہ استعمال کرتے ہیں وہ حیوانی غذاؤں میں سب سے ادنی درجے کی غذا ہے یعنی وہ نباتات ، گھاس پھوس اور اس قسم کی چیزیں، سبز گھاس نہیں تو خشک گھاس ، درختوں کے پتے ، جتنی بھی چیزیں خدا تعالیٰ نے رزق کے طور پر پیدا فرمائی ہیں ان میں سے سب سے پہلی منزل ان غذاؤں کی ہے اور باقی تمام حیوانی زندگی نسبتا اعلیٰ غذاؤں پر پلتی ہے۔تو فرمایا کہ تمہارے لئے عبرت کا نشان یہ ہے کہ وہ اَنْعَامِ