خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 790

خطبات طاہر جلد ۹ 790 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۹۰ء حالتوں میں جب آپ نماز پڑھیں گے تو سورہ فاتحہ آپ کو ایک بے تعلق سی چیز دکھائی دے گی لیکن اگر اس کی وسعتوں کو سمجھیں گے تو یاد رکھیں یہ آپ کی وسعتوں پر ہمیشہ حاوی رہے گی اور کبھی بھی یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کی کوئی حالت سورۂ فاتحہ کی وسعت سے باہر نکل جائے۔ یہ جو پہلو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اس کا تعلق ضمائر سے ہے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ سورۂ فاتحہ جب اللہ کا تعارف کرواتی ہے تو اس میں سوائے غائب کے کوئی ضمیر نظر نہیں آتی ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں کوئی ضمیر ظاہر نہیں ہے۔ وہ رب یا یہ رب یا تو یا میں یا ہم یا آپ کسی قسم کی کوئی ضمیر نہیں مگر غائب کا مضمون ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی تمام صفات کو غائب میں اور جمع کی صورت میں اکٹھا کر کے دکھایا گیا۔ اس کے بعد مضمون نے پلٹا کھایا اور پہلی دفعہ کھلم کھلا ضمائر کا استعمال اس طرح ہوا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا میں ہم نے اپنی طرف جمع متکلم کا صیغہ لگا لیا اور خدا کی طرف سے واحد مخاطب کا ۔ یعنی خدا کو تو کہا اور اکیلا کر دیا۔ اپنی تمام صفات کے باوجود خدا تعالیٰ کی ایک ایسی ہستی کا تصور ہمارے سامنے ابھرا جو غیر منقسم ہے، جو جمع تفریق نہیں ہو سکتی اور واحد ہے پس دعا مانگی تو اس وہم میں مبتلا ہو کر نہیں کہ چونکہ صفات زیادہ ہیں اس لئے ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ بھی کئی قسم کے مختلف وجود رکھتا ہو اور اپنے آپ کو جمع کر دیا۔ گویا تمام کائنات کی نمائندگی اختیار کر لی۔ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا تصور ایک نئے رنگ میں ہمارے سامنے ابھرا اور ہم نے یہ سوچا کہ جب وہ سب جہانوں کا رب ہے تو اس سے تعلق رکھنے کے لئے ہم سب کی نمائندگی میں کیوں نہ اس سے مانگیں کیونکہ وہ سب کا ہے۔ اگر سب کی طرف سے ہم مانگیں گے تو ہماری دعا میں زیادہ اثر ہوگا اور ہم بھی اس کی رَبِّ الْعَلَمِينَ ہونے کی صفت میں حصہ پالیں گے۔ پس إِيَّاكَ نَعْبُدُ کی دعا نے یہ دونوں باتیں ہمیں سمجھا دیں کہ رب اپنی تمام صفات کے باوجود اکیلا ہی ہے اور کائنات پھیلی پڑی ہے اور بے شمار ہے۔ انسان اپنی ذات میں اس ساری کائنات کو مجتمع کر سکتا ہے اور اس ساری کائنات کی نمائندگی میں خدا سے دعا کر سکتا ہے اور یہ دعا واقعہ تمام کائنات کی نمائندگی میں ہو سکتی ہے کیونکہ جب ہم کہتے إِيَّاكَ نَعْبُدُ تو در حقیقت ہم عبادت کا حق ادا کریں یا نہ کریں قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ ساری کائنات واقعہ عبادت کر رہی ہے تو یہ محض ایک مبالغہ آمیزی نہیں ہے یا محض ایک ذوقی نکتہ