خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 790
خطبات طاہر جلد ۹ 790 خطبہ جمعہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۹۰ء حالتوں میں جب آپ نماز پڑھیں گے تو سورہ فاتحہ آپ کو ایک بے تعلق سی چیز دکھائی دے گی لیکن اگر اس کی وسعتوں کو سمجھیں گے تو یاد رکھیں یہ آپ کی وسعتوں پر ہمیشہ حاوی رہے گی اور کبھی بھی یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کی کوئی حالت سورۃ فاتحہ کی وسعت سے باہر نکل جائے۔یہ جو پہلو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اس کا تعلق ضمائر سے ہے۔آپ نے دیکھا ہے کہ سورۃ فاتحہ جب اللہ کا تعارف کرواتی ہے تو اس میں سوائے غائب کے کوئی ضمیر نظر نہیں آتی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں کوئی ضمیر ظاہر نہیں ہے۔وہ ربّ یا یہ رب یا تو یا میں یا ہم یا آپ کسی قسم کی کوئی ضمیر نہیں مگر غائب کا مضمون ہے۔پس خدا تعالیٰ کی تمام صفات کو غائب میں اور جمع کی صورت میں اکٹھا کر کے دکھایا گیا۔اس کے بعد مضمون نے پلٹا کھایا اور پہلی دفعہ کھلم کھلا ضمائر کا استعمال اس طرح ہوا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دعا میں ہم نے اپنی طرف جمع متکلم کا صیغہ لگالیا اور خدا کی طرف سے واحد مخاطب کا۔یعنی خدا کو تو کہا اور اکیلا کر دیا۔اپنی تمام صفات کے باوجود خدا تعالیٰ کی ایک ایسی ہستی کا تصور ہمارے سامنے ابھرا جو غیر منقسم ہے ، جو جمع تفریق نہیں ہوسکتی اور واحد ہے پس دعا مانگی تو اس وہم میں مبتلا ہو کر نہیں کہ چونکہ صفات زیادہ ہیں اس لئے ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ بھی کئی قسم کے مختلف وجود رکھتا ہو اور اپنے آپ کو جمع کر دیا۔گویا تمام کائنات کی نمائندگی اختیار کر لی۔رَبِّ الْعَلَمِینَ کا تصور ایک نئے رنگ میں ہمارے سامنے ابھرا اور ہم نے یہ سوچا کہ جب وہ سب جہانوں کا رب ہے تو اس سے تعلق رکھنے کے لئے ہم سب کی نمائندگی میں کیوں نہ اس سے مانگیں کیونکہ وہ سب کا ہے۔اگر سب کی طرف سے ہم مانگیں گے تو ہماری دعا میں زیادہ اثر ہوگا اور ہم بھی اس کی رَبِّ الْعَلَمِینَ ہونے کی صفت میں حصہ پالیں گے۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی دعا نے یہ دونوں باتیں ہمیں سمجھا دیں کہ رب اپنی تمام صفات کے باوجود اکیلا ہی ہے اور کائنات پھیلی پڑی ہے اور بے شمار ہے۔انسان اپنی ذات میں اس ساری کائنات کو مجتمع کر سکتا ہے اور اس ساری کائنات کی نمائندگی میں خدا سے دعا کر سکتا ہے اور یہ دعا واقعہ تمام کائنات کی نمائندگی میں ہوسکتی ہے کیونکہ جب ہم کہتے إِيَّاكَ نَعْبُدُ تو در حقیقت ہم عبادت کا حق ادا کریں یا نہ کریں قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ ساری کائنات واقعہ عبادت کر رہی ہے تو یہ محض ایک مبالغہ آمیزی نہیں ہے یا محض ایک ذوقی نکتہ