خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 791 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 791

خطبات طاہر جلد ۹ 791 خطبہ جمعہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۹۰ء نہیں ہے بلکہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتے ہیں کہ اے خدا صرف تیری ہم سب عبادت کرتے ہیں یعنی کل عالمین تو بالکل سچ بات کر رہے ہوتے ہیں اور چونکہ تمام کائنات کا نمائندہ انسان واقعہ ہے اس میں تمام کائنات کا شعور خلاصہ کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے اور سب سے اعلیٰ شعور انسان کو عطا کیا گیا ہے۔اس لئے بحیثیت مخلوقات میں سے افضل ہونے کے وہ نمائندگی کا حق بھی رکھتا ہے۔پس جو تخلیق میں سب سے افضل ہو وہ جب عبادت کا اقرار کر لے اور خدا کے حضور جھک جائے تو گویا تمام کائنات خدا کے حضور جھک رہی ہے۔پس ایسا انسان جو عبادت کے وقت اپنا یہ مقام پیش نظر رکھے اُس کے رکوع اور سجود میں ایک اور شان پیدا ہو جاتی ہے اور وہ خدا کے حضور اکیلا نہیں جھک رہا ہوتا بلکہ نَعبُدُ کے ساتھ جھک رہا ہوتا ہے تمام کائنات کا خلاصہ بن کر جھک رہا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نَعْبُدُ کی دعا عرض کرتے تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف ساری کائنات کا نہیں بلکہ تمام عبادت کرنے والوں کے سردار کے طور پر یہ عرض کیا کرتے تھے کہ اے خدا! اے رب العالمین !! ہم سب جو بھی عبادت کرنے والے ہیں وہ سب تیرے حضور جھکتے ہیں اور میں ان کا سردار ہونے کی حیثیت سے یہ اقرار کرتا ہوں کہ تو ہی عبادت کے لائق ہے اور تیرے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ہماری سب سرداریاں تیرے حضور سجدہ ریز ہیں، ہمارے ماتھے تیرے حضور عاجزانہ طور پر اپنے آپ کو مٹی میں رگڑتے ہیں اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اقرار کرتے ہیں تو جب تمام کائنات کا سردار جس کو خدا نے پیدا کیا خدا کے حضور رکوع کرتا تھا اور سجدے کرتا تھا اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا پڑھا کرتا تھا تو حقیقت میں تمام کائنات اور اس تمام کائنات کا خلاصہ خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔پس اس شان کی عبادت تو آج کسی کے لئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر ممکن ہے بھی تو اس کو استطاعت نہیں ہے۔یعنی بشری طور پر اس کے اندر یہ استطاعت نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عبادت کے برابر پہنچ سکے۔اس لئے حسب توفیق اپنی عبادت کو ایسی وسعت دینا ضروری ہے اور اس وسعت کا آغاز اپنے خاندان سے کریں۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں اگر آپ باشعور طور پر باقی چیزوں کو تو شامل نہیں کر سکتے تو اپنی بیوی اپنے بچوں اور اپنے عزیزوں کو شامل کر لیں۔اگر