خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 782 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 782

خطبات طاہر جلد ۹ 782 خطبہ جمعہ ۲۸ دسمبر ۱۹۹۰ء راز کو پاگئے ہیں کہ اصل مالک تو ہے۔پس پیشتر اس کے کہ تو ہم سے واپس لے لے ہم طوعی طور پر محبت کے اظہار کے طور پر یہ تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں۔آج کے بعد جیسے بعد میں تو نے مالک بننا ہے ایسے آج بھی تو ہماری ان سب چیزوں کا مالک بن گیا ہے۔اس مضمون کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان بیان کرنے کے لئے استعمال فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو تمام دوسرے انبیاء پر جو ایک عظیم فضیلت ہے، وہ خصوصیت سے اس بات میں ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنا سب کچھ کلی اصل مالک کو اسی دنیا میں لوٹا دیا اس طرح کسی اور انسان نے ایسا نہیں کیا یعنی باریک ترین جذبات کو بھی خدا کے سپرد کئے رکھا، اپنی ملکیت کے ہر حصے کو کلیۂ خدا کے سپر د کر دیا۔اپنی رضا کو کلیۂ خدا کے سپرد کر دیا اپنی محبت کو اپنی نفرت کو ، ہر چیز کو جس پر انسان کوئی قدرت رکھتا ہے اپنے رب کو واپس کر دیا کہ تو ہی حقیقی مالک ہے اس لئے آج میں یہ سب کچھ تیرے سپرد کرتا ہوں اور تیری رضا کے تابع میں اپنی چیزوں کو استعمال کروں گا۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) (انعام : ۱۶۳) خدا تعالیٰ نے اس راز کو خود کھولا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم شاید اس تفصیل سے بنی نوع انسان پر اپنا یہ مقام روشن نہ فرماتے مگر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اے محمد ! بنی نوع انسان کے سامنے اعلان کر میں وہ ہوں جس نے اپنا سب کچھ خدا کے سپرد کر دیا ہے اور میرا ایک ذرہ بھی باقی نہیں رہا۔اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکی وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي میری عبادتیں کیا، میری قربانیاں کیا، میری زندگی کا ہر حصہ، میری موت یعنی خدا کی راہ میں جو میں لمحہ لمحہ مرتا ہوں سب کچھ خدا کے لئے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جب تم وہ سب کچھ خدا کے سپر د کر دو جس کا مالک تمہیں بنایا گیا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ اپنی ملکیت میں تمہیں شریک کر لیتا ہے اور ایک نئی شان کے ساتھ ، ایک نئی تخلیق کے ساتھ تم اُبھرتے ہو اور ان معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو گویا اس تمام کائنات کی ملکیت میں خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعہ شریک کرلیا، اپنی عطا کے ذریعے شریک کر لیا جو خدا تعالیٰ کا تھا یعنی جو سب کچھ بندے کا تھا وہ اس نے خدا کے سپر د کر دیا اور خدا چونکہ احسان کرنے والوں کے احسان کی سب سے زیادہ شکر گزاری کرتا ہے اور احسان کو تسلیم فرماتا ہے۔