خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 781 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 781

خطبات طاہر جلد ۹ 781 خطبہ جمعہ ۲۸ دسمبر ۱۹۹۰ء سکتا اس لئے کہ وہ محض عادل ہے اور مالک نہیں ہے۔اسی طرح ملک نہیں ہے اور قانون سازی کے اختیار نہیں رکھتا پس رب رحمن اور رحیم یہ تین صفات بہت ہی حسین اور دلکش ہیں لیکن اگر مالک سے الگ رہیں تو محدود ہو جاتی ہیں لیکن مالک کے ساتھ جب مل جاتی ہیں تو پھر ایک عظیم الشان جلوہ دکھاتی ہیں جس کا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا۔ان معنوں میں انسان تو مالک نہیں بن سکتا لیکن انسان خدا کی مالکیت کے کچھ نہ کچھ مزے چکھ سکتا ہے اگر وہ اپنی مالکیت میں لوگوں کو شریک کرے اور لوگوں کو معاف کرنے کی عادت ڈالے جیسا کہ مالک ہونے کی وجہ سے ہمارا رب ہمیں معاف کر دیتا ہے۔پس یہ نہیں کہ مالکیت کی صفت سے ہم کچھ بھی حصہ نہیں لے سکتے۔اپنے اپنے دائرے میں جس حد تک ہمیں خدا تعالیٰ نے کسی چیز کا مالک بنا رکھا ہے اس کا استعمال اس رنگ میں کریں جیسے خدا مالک ہے اور اپنی مالکیت کا استعمال فرماتا ہے اور اس میں بخشش کا مضمون سب سے زیادہ نمایاں ہوکر اُبھرتا ہے اور اپنی چیز میں دوسروں کو دینے کا مضمون بڑا نمایاں ہو کر نکلتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور رنگ بھی ہے جس میں ہم مالک بننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔اور وہ مضمون ایک بہت ہی لطیف اور اعلیٰ درجے کا مضمون ہے جس کی طرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں متوجہ فرمایا۔مالک خدا کا تصور ہمیں بتاتا ہے کہ باوجود اس کے کہ کلیہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر پورا اقتدار رکھتا ہے اس کے باوجود بندوں کو اور دوسری چیزوں کو جو اس نے پیدا کی ہیں بعض دفعہ اس رنگ میں مالک بنا دیتا ہے کہ وہ اپنے زعم میں واقعہ مالک بن بیٹھتے ہیں اور ملک دے کر خود پیچھے ہٹ جاتا ہے اور روزمرہ اصل مالک دکھائی نہیں دیتا اور کلیہ انسان کو یا جانوروں کو زندگی کی ہرقسم کو کہنا چاہئے اپنے اپنے چھوٹے سے دائرے میں بعض دفعہ اس طرح ملکیت عطا ہو جاتی ہے کہ زندگی کی وہ قسم جو بھی ہے۔وہ یہ بجھتی ہے کہ میں ہی مالک ہوں اور کوئی نہیں اور بیچ میں دخل وہ اندازی نہیں رہتی۔یہ اس قسم کا مضمون ہے کہ عارضی طور پر معطی نے جس کو عطا کیا اس کو اس رنگ میں عطا کیا کہ گویا وہی مالک ہے اور اپنی مرضی اس سے اُٹھالی اور دوسرے کی مرضی کے تابع کر دیا۔ان معنوں میں انسان اپنے رب سے ایک خاص سلوک کر سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ ہمیں دیا ہوا اپنی جان ، مال ، عزت ہر چیز جس کا اقتدار خدا نے ہمیں دیا، جس کی ملکیت خدا نے ہمیں عطا فرمائی ہم اپنے رب کو اس طرح لوٹا دیں کہ اے خدا! تو نے جس چیز کا ہمیں مالک بنایا تھا ہم اس