خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 780
خطبات طاہر جلد ۹ 780 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۹۰ء بادشاہت کا مضمون بھی صادق آتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ پہلی تینوں صفات یعنی رب ، رحمان اور رحیم مالکیت کے ساتھ مل کر اور زیادہ وسعت اختیار کر جاتی ہیں ۔ اگر مالکیت سے الگ ان کا تصور کیا جائے تو خدا تعالیٰ کی ذات میں ایک نقص واقعہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس مضمون کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام اور عیسائیت کے موازنے کی گفتگو میں بیان فرمایا۔ عیسائیت کے نزدیک خدا تعالیٰ رَبِّ بھی ہے، الرَّحْمَنِ بھی ہے، الرَّحِیمِ بھی ہے لیکن اس کے باوجود معاف نہیں کر سکتا کیونکہ مالک کا کوئی تصور بائبل نے اس رنگ میں پیش نہیں فرمایا جیسے قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کی مالکیت کا تصور پیش فرمایا۔ پس اس مضمون کو آپ انسانی معاملات اور تجارب پر چسپاں کر کے دیکھیں تو بات بالکل واضح ہو جائے گی ۔ ایک حج کرسی انصاف پر بیٹھتا ہے اس میں ربوبیت کی صفات بھی ہیں ، رحمانیت کی صفات بھی ہیں، رحیمیت کی صفات بھی ہیں مگر چونکہ نہ وہ قانون کا مالک ہے نہ دوسری سب چیزوں کا مالک ہے اس لئے جہاں معاملات کا فیصلہ انصاف کی رُو سے کرنا ہوگا اس کی قوت فیصلہ انصاف کے دائرے میں ہی محدود رہے گی۔ ایک ذرہ بھی وہ انصاف سے باہر نکل کر ان معنوں میں فیصلہ نہیں دے سکتا کہ قانون کو اپنالے یعنی نیا قانون جاری کر دے۔ ایسی تقدیر بنالے جس کے نتیجے میں جس سے وہ رحمانیت کا سلوک کرنا چاہے اس کے حق میں وہ فیصلہ دے سکے اور اسی طرح کسی کی چھینی ہوئی چیز کسی کو بخش نہیں سکتا کیونکہ وہ مالک نہیں ہے اور اپنی طرف سے کچھ دینے کا اس کو اختیار نہیں ۔ تو یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع کو بہت ہی اہمیت دی اور بڑی تفصیل سے اس مضمون پر بخشیں فرمائیں۔ آپ نے بتایا کہ اس خدا کو جو مالک نہ ہو یقیناً اسی طرح Behave کرنا چاہئے یا اس طرح اس سے معاملات کرنے چاہئیں جس طرح عیسائیت کے خدا کا تصور ہے کہ اگر انسان گناہ کرے تو وہ اس لئے معاف نہیں کر سکتا کہ اس کی عدل کی صفت کے خلاف ہے اور عدل ے باہر وہ جانہیں سکتا اس لئے اس مسئلے کا حل یہ نکالا کہ اپنے مزعومہ بیٹے کو جس کے متعلق عیسہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کا بیٹا تھا اُسے قربان کر دیا اور اس کے بدلے باقی بنی نوع انسان کے گناہ بخش دیئے۔ یہ ایک الجھا ہوا اور بڑا لمبا مضمون ہے جس کی تفاصیل میں جانے کا یہاں موقع نہیں مگر اصل روک جوان کے ذہنوں میں ہے وہ یہی ہے یعنی عیسائیوں کے ذہنوں میں کہ کیوں خدا معاف نہیں کر