خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 775 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 775

خطبات طاہر جلد ۹ 775 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء اعظم بھی بنا سکتا ہے وہ بظاہر مالک تو ہے اور قدرت تو رکھتا ہے کہ جسے چاہے چپڑاسی بنا دے جسے چاہے وزیر اعظم بنادے مگر آنکھیں بند کر کے ایسا نہیں کرتا وہ دیکھتا ہے کہ درخواست کنندہ کے پاس کون سی دوسری صلاحیتیں ہیں ، کون سے اس کے مددگار کوائف ہیں جن کی روشنی میں مجھے اس کے ساتھ اپنے تعلقات میں معین فیصلہ کرنا ہے کہ کس مرتبے پر میں اس کو نافذ کروں گا، کس مقام تک اس کو بلند کروں گا اس کا رفع کہاں تک ہونا ہے۔پر اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں ادنیٰ سے ادنیٰ حالت سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ حالت تک کی دعا مانگ لی گئی مگر اس بات کا فیصلہ کہ یہ دعا کس حد تک قابل قبول ہوگی یہ فیصلہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ نے پہلے ہی کر دیا ہے اور ایک نَعْبُدُ کے مضمون کی تفصیل خدا کی نظر میں ہے اور فرشتے اس تفصیل کو لکھتے چلے جاتے ہیں اور ایک ایسا اعمال نامہ تیار کرتے چلے جاتے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب قیامت کے دن دوسری زندگی میں یہ اعمال نامہ انسان کے سامنے پیش ہوگا تو حیرت سے کہے گا کہ مالِ هَذَا الْكِتَبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً (الكهف:۵۰) که کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہیں چھوڑ رہی اور کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی نہیں چھوڑ رہی۔ہر چیز کا اس نے احاطہ کیا ہوا ہے۔پس وہ احاطہ جو قیامت کے دن ہو گا وہی احاطہ اس دنیا میں ایک نَسْتَعِيْنُ کے وقت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دعاؤں کی قبولیت میں ہر بندے سے الگ الگ سلوک ہور ہے ہوتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعا تھی لیکن وہ ایک ایسے شخص کی دعا تھی جو تمام انسانوں کے رفع کے وقت خواہ وہ عام انسان تھے یا انبیاء تھے سب کو پیچھے چھوڑ گیا اور اس کا مقام قرب ہر دوسرے نبی سے ہی بالا نہیں بلکہ تمام فرشتوں ، تمام ملائک ، تمام کائنات میں ہر وجود سے آگے تھا۔پس اس مقام قرب پر جو سفارش ہوتی ہے یا دعا ہوتی ہے اس کا ایک اور مرتبہ ہے اور دنیا میں بھی ہم یہی کچھ دیکھتے ہیں اس لئے خدا کے مضمون کو سمجھنے کے لئے کوئی غیر معمولی صلاحیتیں در کار نہیں آپ روز مرہ کی دنیا میں اتر کر اپنے گرد و پیش میں، اپنی فطرت اور فطرت کے نتیجے میں اپنے تعلقات پر غور کریں جو طبعی تعلقات ہیں اور سچائی پر مبنی ہیں تو آپ کے لئے خدا تعالیٰ سے تعلقات قائم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا۔اب ایک بادشاہ کے حضور اس کا وز یر اعظم جو اس کا چہیتا بھی ہووہ