خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 774
خطبات طاہر جلد ۹ 774 خطبہ جمعہ ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء کرنی ہے یا عبودیت سے منہ پھیرنا ہے۔پس ان معنوں میں جب وہ ان شرائط کو پورا کرتا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پورا کرتا ہے، یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی حد تک پورا کرتا ہے تو وہی چار صفات کے جلوے دوبارہ ایک کے بعد دوسرے ہمارے سامنے رقص کرتے ہوئے آ جاتے ہیں، ایک حسین نظارے کی صورت میں آجاتے ہیں۔ربوبیت کے معاملے میں ہم نے کسی حد تک خدا کے احکامات کی پیروی کی اور اس کی مناہی سے بچے۔رحمانیت کے پہلو سے ہم نے خدا تعالیٰ کے کس کس حکم کی پیروی کی اور کس کس حکم کا انکار کیا اور رحیمیت کے پہلو سے ہم نے کس حد تک خدا تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کی یا ان کا انکار کیا اور اسی طرح مالکیت کے پہلو سے ہم کس حد تک واقعہ خدا کے بچے بندے ثابت ہوئے یہ عبودیت کے مضمون کو مکمل کر دیتا ہے اور اسی مضمون میں یہ نماز بھی شامل ہے جس میں ڈوب کر آپ خدا سے یہ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔خدا نے ہی اپنے تعلق کا یہ ذریعہ بیان فرمایا اور سب سے زیادہ اس کو ا ہمیت دی تو اس ساری دنیا کی سیر کے بعد جب ایک نمازی واپس اپنے حال میں لوٹتا ہے تو یہ بھی پھر پہچانتا ہے اور دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ میں کس حد تک نماز کے تقاضے پورے کر رہا ہوں اور کس حد تک عدل کے ساتھ نماز کے تقاضے پورے کر رہا ہوں اور کس حد تک عدل سے بالا اور اونچا ہو کر خدا کے حضور ایسی عبادت کر رہا ہوں کہ اگر نہ بھی کروں تو مجھ پر حرف نہیں لیکن بہت بڑھ کر سلوک کرتا ہوں اور جب یہ مضمون شروع ہوتا ہے تو وہاں احسان کا مضمون داخل ہو جاتا ہے یعنی نماز عدل سے احسان میں تبدیل ہونے لگتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر حسین ہونے لگ جاتی ہے۔اب آپ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں داخل ہوتے ہیں۔اب دیکھیں کہ ہر شخص کا ایاک نَسْتَعِينُ ہر دوسرے شخص سے کتنا مختلف ہو چکا ہے بظاہر ایک ہی آواز ہے کہ اے خدا! ہم تیری مدد چاہتے ہیں اور صرف تیری مدد چاہتے ہیں تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں لیکن کس کس مدد کی اہلیت کے ساتھ۔جب بھی سوال حکومتوں میں پیش ہوا کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ان کے Biodatas ہوتے ہیں، ان کے اعمال نامے ہوتے ہیں جو چیز انہوں نے حاصل کی ، جو حاصل نہ کر سکے ان سب کا خلاصہ بعض صفحات پر درج ہو کر پیش ہوا کرتا ہے۔اگر کسی نے چپڑاسی بھی بننا ہو تو اس کے لئے بھی کچھ صلاحیتیں درکار ہیں۔پس وہ بادشاہ جو چپڑاسی بھی بنا سکتا ہے اور وزیر