خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 771 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 771

خطبات طاہر جلد ۹ 771 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء امر واقعہ یہ ہے کہ جب آپ ربوبیت کے دروازے سے داخل ہو رہے ہیں اور رب بننے کی کوشش مخلصانہ طور پر کر چکے اور کسی حد تک ربوبیت سے حصہ پالیا، جب رحمانیت کے دروازے میں داخل ہوئے اور رحمان بننے کی کوشش کی اور کسی حد تک رحمانیت سے حصہ پالیا جب رحیمیت کے دروازے میں داخل ہوئے اور رحیم بننے کی کوشش کی اور رحیمیت سے کسی حد تک حصہ پالیا تو درحقیقت آپ ہی ہیں جو مالک بننے کی صلاحیت پیدا کر چکے ہیں۔آپ ہیں جن کا یہ حق بنتا ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ۔اے خدا! کچھ چیزوں میں تو ہم نے واقعہ کوشش کی اور تیرے جیسے بنے کی کوشش کرتے رہے اور کسی حد تک بن گئے مگر ملوکیت کا مضمون ایسا ہے جس میں ہمارا دخل نہیں ہے اور ہم مالک بن نہیں سکتے کیونکہ یہاں کامل طور پر تیرا قبضہ ہے۔اس لئے اب تو ہمیں مالک بنا بھی دے اور یہ تو فیق عطا فرما کہ ہم ملوکیت کے وقت رب بھی ہوں اور رحمان بھی ہوں اور رحیم بھی ہوں اور تیری تمام صفات کے مظہر ہوں اور تیرے مالک ہونے میں جو یہ ایک خاص شان پائی جاتی ہے کہ مالک ہوتے ہوئے بھی تو دوسروں کو ملکیت عطا کر دیتا ہے یہ شان بھی ہمیں بخش۔اب یہاں خدا کی صفات کے مطابق مالک ہونا اور بندے کی صفات کے مطابق مالک ہونا دوا الگ الگ چیزیں بن جاتی ہیں۔ان شرائط کے ساتھ جو شرائط سورۂ فاتحہ ہمارے سامنے رکھتی ہے جب ہم مالکیت کے مضمون پر غور کرتے ہیں اور اس کا موازنہ اس مالکیت سے کرتے ہیں جواس مضمون سے عاری ہے۔ان شرائط سے عاری ہے تو زمین و آسمان کا فرق پڑتا ہے یا آسمان اور زمین کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ایسا ما لک جو اس جذبے سے پاگل ہو کر کہ میری جائیداد بڑھے میرا قبضہ قدرت بڑھے۔ایسا بادشاہ جو اس ہوس سے پاگل ہو کر خدا کے بندوں پر حملے کرتا ہے اور اس کی مخلوقات کے لئے ایک عذاب بن جاتا ہے کہ کسی طرح میرے ملک گیری کی ہوس پوری ہو اور میری مملکت وسیع ہو وہ نہ رب بن سکتا ہے نہ رحمان بن سکتا ہے نہ رحیم بن سکتا ہے۔مالکیت کسی کو دیتا نہیں بلکہ چھینتا چلا جاتا ہے حالانکہ قرآن کریم نے مالکیت کی یہ تعریف فرمائی کہ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ - اصل حقیقی مالک وہ ہے جو عطا بھی کرتا ہے۔صرف لیتا ہی نہیں لیکن جب لیتا ہے تو وہ حق لیتا ہے جو اس کا ہے اور کسی اور کا حق نہیں لیتا اور جب عطا کرتا ہے تو کسی کا حق نہیں دے رہا ہوتا بلکہ اپنی طرف سے عطا کر رہا ہوتا ہے کیونکہ کلیہ مالک وہی ہے دنیا کا