خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 770 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 770

خطبات طاہر جلد ۹ 770 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء یہاں مالک کا معنی صرف کسی چیز پر قبضہ کرنے والا نہیں بلکہ یہاں ملوکیت کے معنے اور بادشاہت کے معنے بھی اس میں داخل فرما دیئے جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں اللهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ کہ اے خدا! تو ملک کا بھی مالک ہے۔یعنی صرف چیزوں کا مالک نہیں، بادشاہتوں کا اور مضامین کا بھی مالک ہے۔کوئی مضمون ایسا نہیں جس کا تو مالک نہ ہو اور بادشاہت بھی ایک مضمون ہے جو تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ تو جس کو چاہتا ہے ملک عطافرما دیتا ہے جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے۔تو ہر چیز پر قادر ہے یہ مالک کی تعریف ہے۔تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْل وَتُخْرِجُ الْحَى مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيْتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ( آل عمران : ۲۸) کہ اے خدا! تو رات کو دن میں تبدیل فرما دیتا ہے۔دن کو رات میں تبدیل فرما دیتا ہے۔موت سے زندگی نکالتا ہے اور زندگی سے موت نکالتا ہے۔مردوں سے زندہ پیدا کرتا ہے اور زندوں سے مردہ پیدا کر دیتا ہے۔وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ اور جس کو چاہے بے حساب رزق عطا فرما دیتا ہے۔تو اس آیت نے اس مضمون کو خوب کھول دیا کہ مالک سے مراد محض کسی چیز کا مالک ان معنوں میں نہیں ہے جن معنوں میں ہم مالک بنتے ہیں یا مالکیت کا مضمون سمجھتے ہیں بلکہ بہت ہی وسیع اور گہرا مضمون ہے اس میں سیاست اور بادشاہت بھی داخل ہو جاتی ہے اور رزق بھی داخل ہو جاتا ہے اور قانون سازی بھی داخل ہو جاتی ہے اور قانون پر پورا قبضہ ہونا بھی داخل ہو جاتا ہے اور قانون کا نفاذ بھی داخل ہو جاتا ہے اور زندگی بھی اس کے ماتحت آتی ہے اور موت بھی اس کے ماتحت آتی ہے۔گو یا مالکیت کا تصور اتنا وسیع ہے کہ رحمانیت نے جس تخلیق کا آغاز کیا تھا اور بوبیت نے اس تخلیق کو جن جن منازل سے گزارا تھا اور رحمانیت اور رحیمیت نے ان کے اوپر جو جو جو ہر دکھائے ان سب کے بعد جو آخری صورت وجود کی ابھرتی ہے اس تمام صورت پر ہر پہلو سے خدا کا مکمل قبضہ ہے۔پس مالک کا تصور ایک بہت ہی عظیم تصور ہے اور مالک بننے کی کوشش کرنا یہ مضمون ایک مشکل مضمون ہے لیکن اس کا تعلق پہلے مضامین سے ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مالک ظالم بھی ہوسکتا ہے،سفاک بھی ہو سکتا ہے کسی سے ناجائز چھین کر بھی وقتی طور پر مالک بن سکتا ہے اور ملوکیت کے اور ملکیت کے نہایت خوفناک مظاہر ہم دیکھتے ہیں تو پھر ہم ویسا بننے کی کیسے کوشش کر سکتے ہیں لیکن